Code : 2414 54 Hit

ہر 11 منٹ میں ایک یمنی بچہ موت کے منہ میں جارہا ہے:اقوم متحدہ

اقوام متحدہ کے رابطہ برائے انسانی امور کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ ہر 11 منٹ میں ایک یمنی بچہ مر رہا ہے جن میں 45 فیصد موتیںبھوک کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

ولایت پورٹل:اقوام متحدہ کے رابطہ برائے انسانی امور کے دفتر نے کل یمن میں جاری جنگ کے کے بچوں پر برے اثرات پڑنے کے سلسلے میں انتباہ دیتے ہوئے ٹوئٹر کے اپنے اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ یمن میں جاری جنگ سے بچوں پر سنگین اثرات ہو رہے ہیں  جس کے تحت ہر 11 منٹ میں ایک یمنی بچہ مر رہا ہے،اقوام متحدہ کے اس ادارے نے ایک بار پھر یمن کے ساتھ لڑنے والی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسان دوستانہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اس ملک میں غیر فوجی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے سے پرہیز کریں ،یاد رہے کہ پچھلے پانچ سال سے سعودی اتحاد کے حملوں کی وجہ سے یمن عظیم انسانی بحران کا شکار ہے،اس سے پہلے بھی اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مارک لوکوک نے انتباہ دیا تھا کہ یمن میں تاریخ کا سب سے بڑا انسانی بحران پیش آچکا ہے ،حال ہی میں انہوں نے کہا تھا تھا کہ یمن کے 50فیصد لوگوں کو  انسان دوستانہ امداد  کی ضرورت ہے ہے اور اس انسانی بحران کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کو ساڑھے چار ارب ڈالر کی ضرورت ہے،یاد رہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یمن کے اس انسانی بحران میں ہر دو گھنٹے میں ایک  ماں اور 6 نومولود بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،قابل ذکر ہے پچھلے پانچ سال سے سعودی عرب کی سربراہی میں عربی امریکی اتحاد نے اس غریب ملک کو ہوا، زمین اور سمندر سے اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا ہوا ہے جس کے نتیجے میں اس ملک میں انسانی بحران آنے کے ساتھ  ساتھ اس  کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے ،یمن کی عوامی  تنظیم انصاراللہ کا کہنا ہے کہ حملوں کی ابتدا سے لے کر اب تک یہاں 36000 غیرفوجی افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں،واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد پچاس ہزار تک بتائی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम