ہر امریکی دو بار ووٹ ڈالے؛امریکی عوام سے ٹرمپ کا عیجب مطالبہ

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹل ووٹنگ صحیح راستہ ہے تو وہ لوگ جو اسے استعمال کرتے ہیں وہ خود بخود اندراج نہیں کر پائیں گے۔

ولایت پورٹل:واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک عجیب و غریب بیان میں  اپنے ملک کے عوام کو آئندہ انتخابات میں دو بار ووٹ ڈالنے کی پیش کش کی!، انہوں نے اس اقدام کو پوسٹل ووٹنگ کی صداقت کا امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ کے لیے بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا، امریکی صدر کا جواز یہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کے بقول  اگرپوسٹل ووٹنگ کا طریقہ بے عیب ہے تو اگر کوئی شخص اس کے ذریعے ووٹ بھیجتا ہےتو وہ انتخابات کے دن خود بخود اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر سکے گا لیکن اگر ڈاک کے ذریعہ ووٹ بھیجنے کے باوجود بھی عوام ذاتی طور پر انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں تو دال میں کچھ کالا ضرور ہے جو ڈیموکریٹس پوسٹل ووٹنگ کے خیال کو اتنا فروغ دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے بار بار دعوی کیا ہے کہ ڈیموکریٹس ووٹنگ کے غیرحاضر طریقوں کا سہارا لے کر انتخابی نتائج کواپنے حق میں جوڑ توڑ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ٹرمپ کے حالیہ تبصرے کے جواب میں  سول لبرٹیز یونین نے عوام کو متنبہ کیا کہ امریکی صدر کی تجویز غیر قانونی ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔
دریں اثنا امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے یہ دعوی کرتے ہوئے ٹرمپ کا دفاع کیاکہ مجھے نہیں معلوم کہ ہر ریاست میں ووٹنگ کے اصول کیا ہیں لیکن پوسٹل ووٹنگ کرپٹ اور آگ کا کھیل ہے!،اگرچہ ریاستہائے متحدہ میں پوسٹل ووٹنگ کوئی نئی بات نہیں ہے یہاں تک کہ 2016 کے انتخابات میں بھی ، جو ٹرمپ کے حق میں رہے تھے،ہرچار میں سے ایک ووٹر نے بذریعہ ڈاک اپنا ووٹ کاسٹ کیا تھا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ جو ووٹنگ کے اس طریقے کو قبول کرتے ہیں وہ ڈیموکریٹک پارٹی سے ہیں  اور کسی بھی صورت میں  2020 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شرکت کی سطح میں اضافہ ریپبلکن ٹرمپ کے مفاد میں نہیں ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین