یورپی تگڑی آل سعود کے لیے پریشان

فرانس ، جرمنی اور برطانیہ نے ایک مشترکہ بیان میں ریاض پر حالیہ مبینہ فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی نیز پیرس ، برلن اور لندن کی سعودی سلامتی کےسلسلہ میں اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔

ولایت پورٹل:برطانوی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ریاض پر حالیہ فضائی حملوں کے بارے میں مغربی ممالک کی جانب سے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے تین یورپی ممالک نے ایک بیان جاری کیا جس میں سعودی عرب کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا،یادرہے کہ گذشتہ ہفتےسنیچر کے روز سعودی دارالحکومت ریاض پر ہونے والے مبینہ حملےپر فرانس ، جرمنی اور برطانیہ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ، لندن ، پیرس اور برلن نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ریاض پر ہونے والے مبینہ حملے کی شدید مذمت کی ہے، یمن پر حملہ کرنے والے سعودی زیرقیادت اتحاد نے سنیچر کے روز دوپہر کے وقت دعوی کیا تھا کہ اس نے ریاض کے آسمانوں میں دشمنانہ ہدف کو روک کر تباہ کردیا ہے، اس اتحاد نے حملے کی قسم (ڈرون یا میزائل) کی وضاحت نہیں کی ، تاہم انہوں نے حملے کا ذمہ دار یمنی انصار اللہ کو قرار دیا تاہم یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یمنی مسلح افواج نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جارحین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
در ایں اثنا عراقی وعدۂ حق بریگیڈ نے ہفتے کے روز صبح ایک بیان میں سعودی دارالحکومت ریاض پر ہونے والے حملہ کی ذمہ داری پر قبول کرلی،ادھر پورپی تین ممالک نے ایک بیان میں کہا کہ میزائلوں اور ڈرون کے پھیلاؤ اور استعمال سے خطے میں سلامتی اور استحکام کو مجروح کیا جاتا ہےجبکہ ہم سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لئے ہم پوری طرح پرعزم ہیں۔
فرانس ، برطانیہ اور جرمنی نے مشترکہ بیان میں مزید کہا کہ ہم سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لئے اپنے پختہ عزم کی توثیق کرتے ہیں، تینوں ممالک نے اس وقت ریاض کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیا جب حالیہ برسوں میں فرانس ، برطانیہ اور جرمنی سعودی عرب کو سب سے بڑے اسلحہ بیچنے والے ممالک میں شامل ہیں ،واضح رہے کہ تینوں ممالک کی مشترکہ بیان سے قبل بھی برطانوی خارجہ سکریٹری نے سعودی عرب کی حمایت میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا  کہ لندن اپنے سعودی شراکت داروں کے ساتھ کھڑا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین