Code : 2451 103 Hit

یورپ اسرائیلی جوہری ہتھیاروں سے متعلق اپنی جان لیوا خاموشی بھی توڑ کر دکھائےذرا:اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب مندوب نے یورپی یونین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر فکر کرنے کی بجائے صیہونی حکومت کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں اپنی جان لیوا خاموشی توڑ دے۔

ولایت پورٹل:اقوام متحدہ میں ایران کے نائب مندوب اسحاق الحبیب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب  کرتے ہوئے   ایٹمی معاہدہ کے سلسلہ میں ایران کی جانب سے کیے وعدوں  میں کمی لانے کے حالیہ اقدامات کے بارے میں گفتگو کی،انھوں نے کہا کہ یران نے جامع مشترکہ ایکشن پلان کے پیراگراف 26 اور 36 کی مکمل تعمیل کرتے ہوئے  اپنے وعدوں  کی تکمیل کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے،انھوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کئی بار اعلان کر چکی ہے کہ ایران پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے اور اس کی تمام جوہری سرگرمیاں ہماری نگرانی میں انجام پا رہی ہیں،آل حبیب نے مزید کہا کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان نےا یران کے جوہری پروگرام  کے سلسلہ میں خصوصی پابندیاں عائد کیں تا کہ ان کے بدلہ میں  تہران کے خلاف پابندیوں کو ختم کیا جائے اور ایران کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعلقات میں اضافہ کیا جاسکےاس کے بعد معاہدہ کے رکن ممالک  کے لیے ضروری تھا کہ اس معاہدہ کے نفاذ کی ذمہ داری ادا کریں لیکن عملی طور ایسا نہیں ہوا  اس لیے کہ امریکہ کے اس سے نکل جانےاور ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے سے اس کا وجود ہی خطرہ میں پڑ گیا اور ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ کوئی بھی معاہدہ اسی وقت تک باقی رہ سکتا ہے جب تک اس میں شامل سب فریقوں کو اس سے فائدہ حاصل ہو ،لہذا اب ایران نے ارادہ کیا ہے کہ معاہدہ کا توازن برقرار کرنے کے لیے خود بھی کچھ وعدوں پر عمل نہ کرے اگرچہ یہ امریکہ کی طرف سے انجام دیے جانے والے اقدامات کے مقابلہ میں ایک چھوٹا ساقدم ہے،آخر میں انھوں نے کہا کہ میں یورپی یونین کی جانب سے جاری ہونے والے بیانیہ کا مکمل احترام کرتے ہوئے ان حضرات سے گذارش کرتا ہوں کہ آپ کو ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب کچھ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سامنے کر رہے ہیں ،آپ ایک نظر اسرائیل کی خفیہ ایٹمی سرگرمیوں پر بھی کر لیجئے  اوراس سلسلہ میں بھی جان لیوا خاموشی کو بھی توڑ دیجئے۔
 

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम