Code : 2212 204 Hit

احادیث معصومین(ع) کی روشنی میں سفر کے آداب

دین اسلام کی نظر میں سفر کرنا ایک معنوی امر ہے لہذا اس میں دیگر معنوی امور کی طرح کچھ شرعی مسائل و آداب کی رعایت و لحاظ کرنا بہت ضروری ہے اور اسی وجہ سے اگر سفر کے دوران دینی آداب کی رعایت مشکل ہو یا ان کے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو سفر نہیں کرنا چاہیئے چنانچہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:’’ لا یَخرُجُ الرَّجُلُ فی سَفرٍ یَخافُ مِنهُ علی دِینِهِ و صَلاتِهِ‘‘۔ انسان کو ایسے سفر پر نہیں نکلنا چاہیئے جہاں اسے اپنے دین پر خطرہ محسوس ہو یا نماز کے چھوٹ جانے کا خوف ہو۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا ہمیشہ سے بنی نوع انسانی کے درمیان رائج رہا ہے اور انسان ہی کیا بہت سے پرندے ایسے ہوتے ہیں جو تبدیلی موسم کے پیش نظر نقل مکانی کرتے ہیں۔بس انسان اور دیگر موجودات کے سفر میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جانور یا چرند و پرند اپنا پیٹ بھرنے کے لئے اور اپنی مادی ضرورتوں کے حصول کی خاطر رنج سفر اٹھاتے ہیں لیکن انسان مادی ضرورتوں کے علاوہ بھی سفر کے دوسرے اغراض و مقاصد سے آشنا ہوکر سفر کرتا ہے جیسا کہ سیر و سیاحت، گذر اوقات کسب معاش،پڑھائی اور تعلیم اور حج و زیارت سے مشرف ہونے کے لئے انسان کبھی رخت سفر باندھتا ہے۔
نفسیات کے کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان کے دل و دماغ پر سفر کرنے کے بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انسان کو سفر کرنے کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان کو ذہنی الجھنوں سے نجات ملتی ہے اور جب وہ دوسروں کے ساتھ فرصت کے لمحات میں ملاقات کرتا ہے تو اس کا یہ جدید تجربہ ممکن ہے اسے ساری زندگی یاد رہے۔
جس طرح مادی اغراض و مقاصد کے لئے بسا اوقات سفر کیا جاتا ہے وہیں اسلامی تعلیمات کی رو سے سفر میں معنوی پہلو بھی پائےجاتے ہیں یہاں تک کہ خود معصومین علیہم السلام نے بہت سی روایات میں سفر کرنے کے فوائد اور آداب بیان فرمائے ہیں مثال کے طور پر پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’سافِروا فَاِنَّکُم اِنْ لَم تَغنَموا مالاً أَفَدتُم عَقلاً‘‘۔(مکارم‌الاخلاق، ص 24) سفر کرو!اگر تمہیں سفر کرنے کے مادی فائدے حاصل نہ ہوں تو کم سے کم تمہیں اس کے عقلی فائدے حاصل ہونگے۔یعنی اگر آپ کو سفر کرنے سے مال، دولت اور ثروت ہاتھ نہ لگے تو کم سے کم آپ کے تجربے ہی میں اضافہ ہوگا جس سے بصیرت بڑھے گی۔
دین اسلام کی نظر میں سفر کرنا ایک معنوی امر ہے لہذا اس میں دیگر معنوی امور کی طرح کچھ شرعی مسائل و آداب کی رعایت و لحاظ کرنا بہت ضروری ہے اور اسی وجہ سے اگر سفر کے دوران دینی آداب کی رعایت مشکل ہو یا ان کے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو سفر نہیں کرنا چاہیئے چنانچہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:’’ لا یَخرُجُ الرَّجُلُ فی سَفرٍ یَخافُ مِنهُ علی دِینِهِ و صَلاتِهِ‘‘۔(وسائل، ج 8، ص 249) انسان کو ایسے سفر پر نہیں نکلنا چاہیئے جہاں اسے اپنے دین پر خطرہ محسوس ہو یا نماز کے چھوٹ جانے کا خوف ہو۔
صدقہ دیکر سفر کا آغاز کرنا
سفر کرنے کا معنوی پہلو اتنا قوی ہے کہ آئمہ طاہرین(ع) نے سفر پر نکلنے سے پہلے اپنے شیعوں کو کچھ خاص دعائیں پڑھنے کی تعلیم اور صدقہ دینے کی تأکید فرمائی ہے چنانچہ ادعیہ پر تحریر کتب میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل ہوئی ہے:’’ إفتَتِحْ سَفَرکَ بِالصَّدقَةِ وَ اخرُجْ اِذا بَدالَک فَاِنَّکَ تَشترَیِ سَلامَةَ سَفَرِکَ‘‘۔(بحار، ج97، ص 31)۔ تم اپنے سفر کا آغاز صدقہ سے کرو اور جب تم صدقہ دیکر سفر کرو گے تو گویا تم نے اپنے سفر کی سلامت کی ضمانت کو خرید لیا ہے۔
کبھی اکیلے سفر نہ کرنا
دوسرا اہم ادب جو ہر سفر پر جانے والے سے تأکیداً بیان ہوتا ہے وہ یہ ہے جہاں تک ممکن ہو اکیلے سفر نہ کریں بلکہ جب کہیں جانے کا ارادہ کریں تو کسی مناسب شخص کو اپنا رفیق سفر بنا لیں نیز یہ بھی خیال رہے کہ شریک سفر اور رفیق سفر کا انتخاب اسلامی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیئے اسی وجہ سے اسلامی تعلیمات میں یہ تأکید ملتی ہے کہ ایسے افراد کے ساتھ سفر کرنے کی کوشش کریں جن کے افکار و طور طریقے آپ سے میل کھاتے ہوں  اور انفرادی و اجتماعی اخلاق و آداب کے پابند ہوں۔اور رفیق سفر کا ہونا کتنا ضروری ہے خود رسول اللہ(ص) کی اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے:’’ الرَّفیقُ ثُمّ الطّریقُ‘‘۔پہلے رفیق(ہمسفر) کا انتخاب کرو پھر سفر پر جانے کی سوچو۔
نیز امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے بھی ایک اچھے ہمسفر کی خصوصیت کو اس طرح بیان فرمایا ہے:’’ لا تَصحبَنَّ فی سَفَرِکَ مَن لایَری لَکَ مِنَ الفَضلِ عَلَیهِ کَما تَری لَهُ عَلیکَ‘‘۔(مکارم‌الاخلاق، ص 251) وہ شخص جو تمہارے فضل اور مرتبہ کا قائل نہ ہو جس طرح تم اس کے فضل و مرتبہ کا لحاظ کرتے ہو تو کبھی اس کے ساتھ سفر نہ کرو۔
ہمسفر کے ساتھ نیکی کرنے کی فضیلت کے لئے رسول اللہ(ص) کا ارشاد ہے:’’مَا اصْطَحَبَ اِثنان اِلاّ کانَ اَعظمُهُما أجراً و اَجَهُّمُا اِلَی اللهِ اَرفَقُهُما بِصاحِبِه‘‘۔(وسائل، ج 8، ص 23) جب دو لوگ ایک دوسرے کے شریک و رفیق سفر بنتے ہیں تو ان میں سے وہ شخص اللہ کی نظر میں زیادہ عظیم و محبوب ہوتا ہے جو اپنے ساتھی کے ساتھ زیادہ مہربانی کے ساتھ پیش آتا ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम