Code : 2632 23 Hit

اردگان کے چاہنے والوں میں پچیس فیصد کمی

ترکی کی ایک تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے سربراہ کا دعوی ہے کہ حالیہ سروے کے مطابق ترکی برسراقتدار پارٹی کی عوامی مقبولیت میں تقریبا ایک چوتھائی کمی واقع ہوئی ہے۔

ولایت پورٹل:احوال نیوز ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ انقرہ کی کشیدگی اور سابق وزیر اعظم کی نئی پارٹی  تشکیل دینے کے بعد ترکی میں ہونے والے تازہ ترین سروے کی رپورٹ  سے پتہ چلتا ہے کہ ترکی کی برسراقتدار پارٹی عدالت اور ترقی (اے کے پی) نے اپنے 25 فیصد ووٹ کھودئے ہیں،ترک حکومت کی اپویشن سے وابستہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق اس ملک کی(M.E.K) فاؤندیشن نے حال ہی میں ایک ملک گیر سروے کیاجس کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ 24 جولائی ، 2018 کو ترکی میں ہونے والےانتخابات میں جن افراد نے  رجب طیب اردگان کی سربراہی میں چلنے والی پارٹی عدالت اور ترقی کو ووٹ دیا تھا ان  میں سے تقریبا ایک چوتھائی نے اپنی رائے واپس لے لی ہے،اس سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی  میں پارلیمانی نظام  صدارتی نظام  میں  تبدیل کرنے کے لیے ہونے والے16 اپریل ، 2017 کے ریفرنڈم میں  جن افراد نے اس تبدیلی کے حق میں ووٹ دیے تھے ان  میں سے 25 فی صد اب کہتے ہیں کہ اگر وہ اس وقت واپس آئے تو وہ اس تبدیلی کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے،احوال نیوز کے مطابق ، اگرچہ اے کے پی کے ووٹوں میں تقریبا ایک چوتھائی کمی واقع ہوئی ہے ، لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں کی بھی عوامی مقبولیت میں اضافہ نہیں ہوا ہے ، اور ان جماعتوں میں سے  کچھ کے سربراہان کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ترکی کے تعلقات حالیہ مہینوں میں کئی میدانوں میں  تناؤ کا شکار ہیں یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین