Code : 2228 88 Hit

اردغان نے ملک کو تباہ کردیا ہے: فتح اللہ گولن

ترکی کے مخالف رہنما فتح اللہ گولن نے مصر کے ایک چینل کو دیے جانے والے اپنے ایک انٹرویو کے دوران عبدالفتح السیسی کی تعریف کرتے ہوئے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کو مصر اور ترکی کے درمیان خراب کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔

ولایت پورٹل:امریکہ میں خود جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے والے ترکی کے کے مخالف رہبر اور فتح اللہ گولن نے غیرمعمولی اور اتفاقی طور پر مصری چینل کو انٹرویو دیا جس میں انہوں میں طیب اردغان کے خلاف سخت الفاظ  استمال کیے،مصری چینل کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں گولن نے اپنے آپ کو طیب اردغان  کا اول درجے کا دشمن قرار دیا اور کہا کہ اس نے 2016 میں خود بغاوت کی، جس کے ذریعے فوج کی کاٹ جان کر کے اپنے مخالفین کو کو کنارے لگا دیا ،گولن نے ترکی کی انصاف اور ترقی پارٹی کے لیڈروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ  یہ لوگ ترکی کی اقدار کے مخالف قرار ہیں، یہ لوگ حقیقی ترک  ہیں ہی نہیں ، انہوں نے نے اردغان  پر الزام لگایا تو کسی کی بات نہیں سنتے وہ ہم لوگوں کو دہشت گرد کہتے ہیں خاص طور پر مجھے انہوں نے دہشتگردوں کا سرغنہ  قرار دیا  ہےاور اب تک میرے خلاف کئی ایک مقدمے بھی دائر کر چکے ہیں، آگے چل انھوں نے مغربی اور اسلامی ممالک سے تقاضہ کیا کہ وہ اردغان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹے اس لئے کہ ترکی  میں آنے والے بحران کوحل کرنے کا واحد راستہ یہی ہے،گولن نے مصر اور اور ترکی کے روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج تک میں نے کسی مصری اعلی عہدیدار کو ترک عوام کی توہین کرتے ہوئے نہیں سنا نا لیکن جب 2013 مصر میں بحران آیا  تواردغان نے کہا کہ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھوں  نے مصر کے صدر کو فرعون کہا جبکہ وہ کو ان کو جانتے نہیں تھے یہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کھٹائی میں پڑ گئے،فتح اللہ گولن نے مزید کہا کہ ترکی اور مصر کی عوام کے درمیان  گہرے روابط پائے جاتے ہیں لیکن یہ ترکی کی حکومت ہے جو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر سب سے جنگ وجدال کا سہارا لیتی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی لیکن جب تک اردغان کی حکومت ترکی میں  باقی ہے تب تک ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آرہا ہے ۔

 یاد رہے کہ فتح اللہ گولن کو کو ترکی حکومت نے ایک دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम