Code : 4007 3 Hit

کل کے دشمن،آج کے اتحادی؛صیہونی اور خلیفہ حفتر

ایک عربی اخبار نے صیہونی حکومت اور خلیفہ حفتر کے درمیان تعلقات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تل ابیب حفتر کی خفیہ حمایت کررہا ہے۔

ولایت پورٹل:القدس العربی عربی اخبار  نے"کل کے دشمن ، آج کے اتحادی"  کے عنوان سے"اسرائیل اور حفتر"  کے تعلقات اور لیبیا کے بارے میں تل ابیب کے بنیادی موقف اور لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت کے مقابلہ میں حفتر کے ساتھ دوستی کے اس کے محرکات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا  ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل لیبیا کی صورتحال کے منظر سے بہت دور ہےلیکن متعدد تحقیقی اور میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب مشرقی لیبیا کی افواج کے ساتھ اسرائیل کے مفادات اور قومی سلامتی کی صف بندی کے پیش نظر لیبیا کی قانونی حکومت کے مخالف  اور باغی جنرل خلیفہ حفتر کی حمایت کر رہا ہے۔
اس سلسلہ میں عبرانی اخبار دی یروشلم پوسٹ نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افسران نے لیبیا میں جنرل کے زیر کنٹرول علاقوں میں جنرل حفتر کے عسکریت پسندوں کو اگست اور ستمبر 2019 کے درمیان لڑائی اور سڑکوں پر ہونے والی جھڑپوں کی تربیت دی تھی،مذکورہ عبرانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حفتر عسکریت پسندوں کو اسرائیلی میزائل دفاعی نظام سے لیس کیا تا کہ لیبیا کی قانونی حکومت سے وابستہ فوج کے ڈرونوں کا مقابلہ کرنے کے لئےان کو استعمال کر سکیں۔
القدس العربی نے مزید لکھا ہے کہ تل ابیب کے لیبیا میں متعدد مفادات ہیں، 2011 میں معمر قذافی کے حکومت کے خاتمے کے بعد ، متعدد میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسلحہ لیبیا سے مصر کی سرزمین کے راستے غزہ پٹی پہنچا یا گیاتھا جس سے اسرائیل میں عدم اطمینان ہوا اور اسے اپنی سلامتی کے لئے خطرہ محسوس ہوا جس کے بعد حفتر2014 میں میدان میں اترا اور پھر مشرقی لیبیا کا کنٹرول سنبھال لیا ، وہ لیبیا سے غزہ تک ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لئے اسرائیل کا نمائندہ بن گیا، لیبیا پر حفتر کے قبضے کا مطلب اسرائیل کے خلاف طرابلس کے خطرے کا خاتمہ ہے ۔
اس کے علاوہ  تیل سے مالا مال لیبیا اسرائیلی ہتھیاروں کا درآمد کنندہ بن سکتا ہے خاص طور پر چونکہ اسلحہ کی برآمد اسرائیل کے لئے معاشی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہےلیکن اسرائیل حفتر کو مدد خفیہ طریقہ طور پر اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اس سے الجزایر اور تیونس   حتی کہ جنرل حفتر کی حامی  عرب قوم پرست  تنظیمیں بھی اسرائیل کی دشمن بن سکتی ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین