Code : 3436 17 Hit

حزب اللہ جیسی تحریک کا خاتمہ ہمارے بس کی بات نہیں؛سابق صیہونی وزیر اعظم کا اعتراف

صہیونی حکومت کے سابق وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ حزب اللہ کا خاتمہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ لبنان کے جنوبی شہروں میں ایک نہایت مضبوط تحریک ہے اور اس کے خاتمے کا واحد راستہ لبنانی شہروں میں داخل ہونا اور وہاں رہنا ہے۔

ولایت پورٹل:سابق صیہونی وزیر اعظم یہود بارک ، وزیر جنگ اور اسرائیلی مسلح افواج کے سربراہ نے تل ابیب ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے لبنان  سے صیہونیوں کی پسپائی، فلسطینی مہاجرین اور حزب اللہ کی تحریک سے متعلق گفتگوکی۔
انہوں نے مئی 2000 میں صیہونی حکومت کے لبنان سے جبری انخلا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے لبنان کے قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کا ارادہ تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو لبنان سے اردن منتقل کیا جائے  لیکن اس پر عمل درآمد میں دشواری کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔
بارک نے مزید کہا کہ مفروضہ یہ تھا کہ فلسطینی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے بجائے اردن جانے ، وہاں حاکم ہاشمی خاندان کو ختم کرنے  اور اردن میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام پر مجبور ہوں گے لیکن یہ منصوبہ ناکام رہا۔
ان سے سوال کیا گیا کہ جب آپ اسرائیلی مسلح افواج کے سربراہ تھے تو آپ نے حزب اللہ کا خاتمہ کرنے کے لیے اقدام کیوں نہیں کیا تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کا خاتمہ ممکن نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان کے شہروں میں غیر فوجی تنظیم کو صورت میں ایک  بنیادی اور مضبوط مزاحمتی تحریک کی صورت میں موجود ہے۔
باراک نے کہا کہ اگرآپ حزب اللہ کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو لبنان کے اندر صور و صیدا جیسے شہروں میں داخل ہونا پڑے گا کیونکہ حزب اللہ کو ختم کرنے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے،اگرچہ ہم یہ کوشش بھی کر چکے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوسکے، میری نظر میں ، فوجی کاروائی کے ذریعہ حزب اللہ کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम