امارتی حکام صیہونیوں کے تلوے چاٹنے میں مصروف

صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے مابین غلام اور آقا کا  ایسارشتہ ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں مل سکتی، متحدہ عرب امارات کی حکومت قابضین کے مقابلہ میں خود کو بدترین حد تک ذلیل و رسو کرتی ہے۔

ولایت پورٹل:جب سے متحدہ عرب امارات نے صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں تب سے اس نے اسرائیلی غاصبوں اور دہشتگردوں کی مصنوعات کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں اور ان کے متعدد ساتھ سلامتی اور فوجی معاہدے طے کیے ہیں، متحدہ عرب امارات کی غلام کی ایک مثال مقبوضہ فلسطین میں اس ملک کے سفیر محمد محمود الخواجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں توریت اسکالرز کی کونسل کے چیئرمین شلوم کوہن سے ملاقات کی صورت میں دیکھنے کو ملی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ  بن زائد کے اس سفیر کی بے شرمی  اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ  انہوں نے قدامت پسند یہودیوں کے اس انتہا پسند ربی سے کہاکہ خدا کی مرضی کے ساتھ آپ طاقت کے ساتھ لوٹ آئیں گے اور ہم پورے خطے میں آپ کی حمایت کریں گے،الخواجہ نے مزید رسوائی اور ذلت کا مظاہرہ کرتے ہوئےصیہونی وزیر کھیل "خلی ٹروبر" اور صیہونی حکومت کے سابق سربراہ "رووین رولین" کے ساتھ بیٹھ کر صہیونی ٹیم کا فٹبال دیکھا ، یہاں تک کہ قابضین کی قومی ٹیم کی وردی پہن کر  ان کے ساتھ ایک یادگار تصویر بھی کھینچی!
واضح رہے کہ سوشل میڈیا صارفین نے اسی سلسلہ میں اماراتی شہری (جو واضح طور پر متحدہ عرب امارات کی حکومت سے وابستہ ہے) کی ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے آئے ایک صہیونی سیاح کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ  میرا بھائی ہے،جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہ  ایک اسرائیلی ہے۔
صیہونی حکومت سے وابستہ کچھ اماراتی لوگوں کے طرز عمل میں ان ساری بدسلوکیوں کے بعد  اس سرزمین میں ایک مہم شروع ہوئی ہے جس میں امتیازی دانشوروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سے پہلےکہ امارات حکام  صیہونیوں کے پیروں پر گرنے لگیں کچھ کریں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین