فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران صیہونی اور آل سعود کے جرائم میں تیزی

دنیا کے اہم ترین فٹ بال مقابلوں کے آغاز اور ان مقابلوں کی حساسیت کے عروج کے ساتھ جیسے جیسے دنیا کے اس بڑے اور حساس ترین اجتماع کے آخری مراحل قریب آرہے ہیں، صیہونی حکومت کی دہشت گردی اور جرائم کی پالیسی میں شدت آگئی ہے نیز سعودی عرب میں سزائے موت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ولایت پورٹل:حالیہ دنوں میں قطر میں 2022 ورلڈ کپ کے آغاز کے ساتھ ہی خطے کے کونے کونے میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جنہیں نظروں سے اوجھل نہیں رکھا جانا چاہیے، ان دنوں ایسا لگتا ہے کہ جیسے جیسے دنیا کے اہم ترین فٹ بال مقابلوں میں حساسیت بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے صیہونی حکومت کی دہشت گردی اور جرائم کی پالیسی میں بھی شدت آئی ہے نیز سعودی عرب میں بھی سزائے موت پر عمل درآمد میں اضافہ ہوا ہے،حالیہ دنوں میں باخبر ذرائع نے سعودی عرب میں مخالفین کو پھانسی دینے کے عمل میں اضافے کی خبر دی ہے۔
 اقوام متحدہ نے حال ہی میں ایک بیان جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا کہ سعودی عرب نے 10 نومبر سے اب تک 17 افراد کو پھانسی دی ہے،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت کی منظوری سزاؤں پر عمل درآمد کے فیصلے کے فوراً بعد ہی دی جاتی ہے، اس لیے پھانسی سے قبل سزائے موت پانے والے افراد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں ہو سکتی ہیں۔
معتبر مراکز کے اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب میں اس سال پھانسیوں کی تعداد 138 تک پہنچ گئی ہے جو 2021 کے مقابلے میں کم از کم دو گنا ہے، سعودی عرب نے 2021 میں مجموعی طور پر 69 سزائے موت پر عملدرآمد کیا جبکہ اس سال ان اعدادوشمار میں دو گنا اضافہ ہوا ہے، تاہم اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے 17 پھانسیاں قطر میں 2022 کے ورلڈ کپ کے دوران دی گئی ہیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق آل سعود حکومت کے ورلڈ کپ کے دنوں کو اپنے جابرانہ مقاصد کے لیے غلط استعمال کرنے کے منصوبے سے ہوسکتا ہے۔
درایں اثنا اس سال کے آغاز سے اب تک صیہونی حکومت کے حملوں میں 206 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں سے 154 کا تعلق مغربی کنارے اور بیت المقدس جبکہ 52 کا غزہ کی پٹی سے تھا،یاد رہے کہ فلسطینی قوم کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر صیہونی حکومت نے صرف مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں صرف 24 گھنٹوں کے اندر 6 فلسطینیوں کو شہید کیا، یہ اعدادوشمار مقبوضہ علاقوں میں صیہونیوں کی دہشت گردی اور جرائم کی پالیسی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ صہیونیوں کے ماضی کے ریکارڈ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے 2014 کے ورلڈ کپ کو بھی غزہ کے خلاف ہمہ گیر جنگ شروع کرنے کے لیے استعمال کیا جس کے دوران سینکڑوں فلسطینی مارے گئے جس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ صیہونی حکومت اور آل سعود جیسی مجرمانہ اور جابر حکومتیں حزب اختلاف کو ہر ممکن طریقے سے دبانے کے اپنے اہداف کے مطابق ورلڈ کپ کو ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتی ہیں اور اسے اپنے خطرناک منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم سمجھتی ہیں۔
اس سلسلے میں انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی سماجی کارکنوں اور دنیا کے تمام باشعور  نیز بیدار حلقوں کو ہوشیار رہنا چاہیے اور ان دنوں خطے میں انجام دی جانے والی مجرمانہ سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے،عالمی اداروں کو جو ہمیشہ دوہری پالیسیوں کے ساتھ عالمی مسائل کی پیروی کرتے ہیں، چاہیے کہ وہ اس میدان میں سنجیدہ سرگرمی کا مظاہرہ کریں اور ورلڈ کپ کے دوران ایسی سرگرمیوں کو روکیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین