Code : 2652 39 Hit

سعودی تاریخ کی سب سے بڑی بدعوانی کا انکشاف

سعودی پراسیکیوٹر نے "غیر معمولی منی لانڈرنگ" کے الزام میں تین غیر ملکی شہریوں اور ایک سعودی شہری کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

ولایت پورٹل:عکاظ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی پراسیکیوٹر جنرل ماجد الدسیمانی کے دفتر کے ترجمان نے ہفتہ کو منی لانڈرنگ اور فیکٹرنگ کے الزام میں چار افراد کی گرفتاری اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے،انھوں نے اس سلسلہ میں مزید کہا کہ ملزمین میں  تین غیر ملکی شہری اور ایک سعودی شہری شامل ہے،سعودی پراسیکیوٹر  کاکہناہے کہ یہ لوگ سرکاری دستاویزات کی  جعل سازی کرکے ان کے ذریعہ استغاثہ کی آنکھوں میں دھول جھونک  کر اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے ،ماجد نے مزید کہا کہ ملزمین بینکاری نظام کو بھی نظرانداز کیا اور منی لانڈرنگ کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کو غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کرکے بیرون ملک بھیج دیا،الدسمیانی نے باہر منتقل کی جانے والی رقم کی مقدار پانچ ارب سعودی ریال (1.3بلین ڈالر) بتائی ہے،سعودی پراسیکیوٹر کے ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کو مجموعی طور پر 26 سال قید اور چھ ملین ریال جرمانے اور جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی گئی ہے،اسپوٹنک نیوز ایجنسی نے اس بدعنوانی کو سعودی عرب کی تاریخ کی سب سے بڑی بدعنوانی قرار دیا ہے،قابل ذکر ہے کہ اس وسیع پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف اس کے بعد ہوا ہے جب سلمان بن عبد العزیز کی جانب سے 5 دسمبر کو اینٹی کرپشن کمیشن میں تبدیلیاں کرنے اور چیف آف اسٹاف کو برخاست کر کے دو تنظیموں "آڈٹ اور انوسٹی گیشن" کو قومی انسداد بدعنوانی بورڈ میں ضم کیا گیا اور ان کا نام تبدیل کرکے "اینٹی کرپشن انسپیکشن بورڈ" کردیا گیا،سعودی حکومت کے مخالف کچھ تجزیہ کاروں  کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان نے بدعنوانی کے خلاف جنگ  لڑنے کے بہانہ ایگزیکٹو برانچ اور سعودی قبیلے میں اپنے مخالفین کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम