صہیونیوں کے درمیان اختلافات عروج پر

مبصرین کا خیال ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں نئی انتخابی مہم دائیں بازو کی طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی معاشرے کی کمزوری کو بھی اجاگر کرے گی۔

ولایت پورٹل:مقبوضہ علاقوں کو ایک بار پھر نئے انتخابات اور اسرائیلی جماعتوں کے درمیان حقیقی معرکہ آرائی کا سامنا ہے جن میں سے ہر ایک اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں بہتر پوزیشن حاصل کی جا سکے، ایسے حالات میں مقبوضہ علاقوں میں طاقت کی مساواتیں پیچیدہ ہوتی چلی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اب بھی لیکوڈ پارٹی کے سربراہ ہیں، دریں اثنا نفتالی بینیٹ کی مخلوط حکومت جو متضاد دھاروں سے بنی تھی، کا تختہ الٹ دیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں ایک بھی قانون نافذ کرنے میں ناکام حکومت کے قیام کے ایک سال بعد صیہونی حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بدعنوان نیتن یاہو کا آپشن ان لوگوں سے بہتر ہے جنہوں نے فتح کے لیے عربوں کا رخ کیا۔
رپورٹ کے مطابق دائیں بازو کے حامی اب ان لوگوں کو اقتدار میں واپس آنے کی اجازت نہیں دیں گے جو عربوں کے ساتھ اتحاد کے خواہشمند ہیں، اور اس دوران، نیتن یاہو واحد شخص ہیں جو ماضی میں عربوں سے مدد لینے کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین