Code : 2515 42 Hit

بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بھی بے عدالتی کا مظاہرہ؛صیہونیوں کے خلاف کیس کی سماعت کرنے سے انکار

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹرنے انسانی امداد کو غزہ لے جانے والی ماوی مرمره کشتی پرصیہونیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملہ کے سلسلہ میں اس غیر قانونی ریاست کے خلاف دائر کیے جانے والے جنگی جرائم کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے سے انکار کردیا ہے۔

ولایت پورٹل:فری‌بیکن نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے گذشتہ (پیر) کو ترکی سے غزہ انسان دوستانہ امداد لے جانے والی کشتی پر صیہونیوں کے حملے   کی وجہ سے صہیونی حکومت کے خلاف دائر ہونے والےجنگی جرائم کے مقدمہ کو تیسری بار کھولنے سے انکار کردیا ہے،بین الاقوامی فوجداری عدالت  کے چیف پراسیکیوٹر نے اس کیس کو کھولے جانے لیے بین الاقوامی دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے  صہیونی جنگ کے جرائم کی تحقیقات  کرنے کے لیے کیس کو دوبارہ کھولنے سے  صاف انکار کردیا،یاد رہے کہ ستمبر کے وسط  میں  بین الاقوامی فوجداری عدالت کی اپیل برانچ نے اعلان کیا تھا  کہ اس نے 2010 میں ماوی مرمره کشتی پر ہونے والے حملہ کا مقدمہ پھر سے  کھول دیا ہے،رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اس فیصلے سے صہیونی قانونی ماہرین کا خوش نظر آرہے ہیں،قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب پورے یورپ کی عدالتوں نے اسرائیلی بائیکاٹ ، غیر سرمایہ کاری اور بائیکاٹ کی تحریک کی حمایت کی ہے،یہ تیسرا موقع ہے جب بینسوڈا نے صیہونی حکومت کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کی پیروی کرنے سے انکار کیا ہے،یہ مقدمہ ، ترکی میں قائم انسان دوستانہ امددی نے  فاؤنڈیشن  اورکوموروس جزیرے کی مقامی حکومت نے مل کر بین الاقوامی فوجداری عدالت میں دائر کیا کیوں کہ کوئی دوسری حکومت صیہونی حکومت کے خلاف مقدمہ چلانے پر راضی نہیں تھی، اس عدالت کا ایک انتہائی متنازعہ مقدمہ تھا،اس مقدمہ میں اب تک کئی مرتبہ  نظر ثانی کی جاچکی ہے اور ہر بار متضاد وفیصلے جاری کیے جاتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین