Code : 3302 29 Hit

کورونا کے نام پر آل خلیفہ کی گھناؤنی سیاست

کورونا کے وباء کے دوران سیاسی وجوہات کی بنا پر مصر نے اپنے شہریوں کو قطر میں چھوڑنے کے بعداب بحرین نے ایران جانے والے اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیاہے۔

ولایت پورٹل:لندن سے شائع ہونے والے اخبار العربی الجدید نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ جیسے ہی کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا  دنیا کے بیشتر ممالک اپنے شہریوں کو وطن واپس بلا رہے ہیں لیکن بحرینی عہدے دار اپنے شیعہ شہریوں پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں جو مذہبی سفر کے لئے ایران گئے ہیں اور یہ لوگ  وہیں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
مذکورہ اخبار کے مطابق  ایک ماہ قبل سےبحرین کی حکومت اپنے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو وطن واپسی سے گریز کررہی ہے جو مشہد مقدس میں محصور ہیں  خاص طور پر چونکہ منامہ اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اورنہ ہی جنوری 2016 سے آج تک  دونوں ممالک کے مابین براہ راست اڑان  ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق  جہاں زیادہ تر عرب ممالک نے اپنے شہریوں کو بیرونی ممالک سے وطن واپس بلا لیا ہے وہیں منامہ نے مشہد میں پھنسے ایک ہزار تین سو سے زیادہ بحرینی شہریوں کو وطن واپس لانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
لندن میں مقیم بحرینی  قانونی مشیر ابراہیم سرحان نے کہا ہے کہ بحرینی شہریوں کی بیرون ملک صورتحال پر بیرون ملک پیروی کرنا وزارت خارجہ کی براہ راست ذمہ داری ہے لیکن بحرینی حکومت نے حال ہی میں ایران سے بحرینی شہریوں کی منتقلی کی ذمہ داری وزارت صحت کو تفویض کی ہے۔
العربی الجید نے منامہ کے اس طرز عمل کو بحرینکے اندر حکام کے فیصلوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک کے اندر حکام نے اپنے شہریوں کی صحت کو برقرار رکھنے کی خاطر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے اور روکنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔
 

1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین