آل سعود اور امریکہ دو دیرینہ اتحادیوں کے درمیان اختلافات(ایک تجزیہ)

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اختلاف زیادہ دیر تک نہیں چلے گا اور باہمی مفادات اور تعاون کی مشترکہ ضرورت جیسی وجوہات دونوں فریقوں کو دوسرے فریق کے کردار کو قبول کرنے پر مجبور کریں گی۔

ولایت پورٹل:امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن جو گذشتہ ہفتے محمد بن سلمان اور کچھ اعلیٰ عہدے دار سعودی حکام سے ملاقات کے لیے سعودی عرب کا دورہ کرنے والے تھے کے دورے کی منسوخی،دونوں دیرینہ اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو ظاہر کرتی ہے،یادرہے کہ افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ، سعودی دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ ، ریاض میں امریکی کمانڈروں اوراس شہر میں امریکی سفارت خانے کے اراکین کے ساتھ ملاقات امریکی وزیر خارجہ کے سعودی عرب کے دورے کے دوران اعلان کردہ منصوبوں میں شامل تھے ، تاہم انھوں نے اچانک ریاض کا دورہ منسوخ کر دیا۔
واضح رہے کہ  امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع گذشتہ ہفتے قطر پہنچے ، اس کے بعدبلنکن نے یورپ کا سفر کیا اور آسٹن نے خلیجی عرب ریاستوں کا دورہ جاری رکھا  جہاں انھوں نے بحرین اور کویت کا دورہ کیا ، تاہم جب یہ سعودی عرب کی باری آئی تو ان کا سفر نامکمل رہ گیا، اگرچہ پینٹاگون نے ابتدائی طور پر آسٹن کے دورے کی منسوخی کو شیڈول کے طور پر معمولی قرار دیا تھا ، تاہم  ماہرین نے کہا کہ یہ اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہیں تھا، کیونکہ اس طرح کی ملاقاتیں ہفتوں پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں اور ہنگامی صورت حال میں ایک یا دو دن کے لیےتو ملتوی کی جا سکتی ہیں  لیکن منسوخ نہیں ہوتیں۔
 اس کے علاوہ ، آسٹن کے پروگراموں میں پہلے سے طے شدہ کوئی ملاقاتیں نہیں تھیں  اور نہ ہی کوئی عجلت تھی نیز ان کے سعودی ہم منصب محمد بن سلمان بھی سعودی عرب میں موجود تھ جبکہ دوسری طرف  بن سلمان نے جمعرات کو نیوم میں (جہاں وہ امریکی وزیر دفاع سے ملنے والے تھے) روسی ڈوما کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین لینڈ سلوٹسکی کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکہ کو ایک سخت پیغام بھیجا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین