Code : 1377 39 Hit

اسلام کے لئے جناب خدیجہ(س) کی فداکاریاں

جناب خدیجہ(س) کی پاکیزگی و شرافت کا عالم کیا ہوگا جو دور جاہلیت میں بھی خاتون قریش اور طاہرہ کے نام سے جانی جاتی ہو۔دور جاہلیت میں جو خاتون قریش تھی وہی خاتون، اسلام میں، سبقت کی بنیاد پر خاتون اسلام بھی کہلائی یہ شرف کیا کم ہے کہ جناب خدیجہ وہ پہلی خاتون ہیں جنکے لئے ملتا ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے اسلام قبول کیا۔

ولایت پورٹل: جناب خدیجہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے دین کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور اپنی پوری زندگی دین پر لٹا دی،جناب خدیجہ کا لافانی و لازوال کردار آج ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ ہم صرف تذکرہ نہ کریں بلکہ اس کردار کو اپنے وجود میں ڈھالنے کی کوشش کریں جس نے گر اپنی دولت اسلام پر قربان نہ کی ہوتی تو آج یہ دین محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوری دنیا میں ہمہ گیر نہ ہوتا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جناب خدیجہ عرب کی ایک ایسی مالدار خاتون تھیں، جنکے مال سے بہت سے لوگ تجارت کے پیشے سے وابستہ تھے، بٹائی اور مضاربہ پر  عرب کے بڑے بڑے تاجر جناب خدیجہ کے ساتھ تجارت کرتے  تھے ، بہت سے ایسے بھی افراد تھے جنہوں نے  آپکے سرمایہ سے تجارت کی  یا پھر آپ کی زیر نگرانی تجارتی  امور کو انجام دیا ۔(1)
آپکا شہرہ تجارت ہی میں نہ تھا بلکہ آپ درایت  و خیر و کرامت نفس اور نسب کے اعتبار سے بھی   مانے جانے  اور  اچھے قبیلہ سے تعلق رکھتی تھیں ، ایک ایسی خاتون تھیں جن کے لئے مشہور تھا کہ دولت کے ساتھ ساتھ شرافت سے بھی اللہ  نے انہیں  خوب خوب نوازا تھا  چنانچہ مورخین لکھتے ہیں کہ بے شمار دولت کے ساتھ آپ    شرف و مقام و منزلت  میں بھی یکتائے روزگار تھیں ۔(2) اسی لئے جہاں آپکی دولت کا تذکرہ ملتا ہے وہیں آپکی شرافت و فضیلت کا ذکر بھی نظر آتا ہے۔(3) اس خاتون کی پاکیزگی و شرافت کا عالم کیا ہوگا جو دور جاہلیت میں بھی خاتون قریش اور طاہرہ کے نام سے جانی جاتی ہو۔(4)
دور جاہلیت  میں جو خاتون قریش تھی  وہی خاتون،   اسلام میں، سبقت کی بنیاد پر خاتون اسلام بھی کہلائی  یہ شرف کیا کم ہے کہ جناب خدیجہ  وہ پہلی خاتون ہیں جنکے لئے ملتا ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے اسلام قبول کیا۔(5) امام علی علیہ السلام جناب خدیجہ کے سلسلہ سے فرماتے ہیں : وہ واحد گھر جس میں مسلمان  اکھٹے ہوتے وہ گھر تھا جس میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، جناب خدیجہ اور تیسرا فرد میں ہوا کرتا تھا  ہم لوگ ایک ساتھ اکھٹا ہوتے ، میں نور وحی و رسالت کو دیکھتا اور  نبوت کی خوشبو کو سونگھتا  تھا‘‘۔(6)
ایسی عظیم المرتبت خاتون کی ہم نے کل وفات کا غم  منایا  جس نے آغاز سے انجام تک اپنا سب کچھ دین پر قربان کر دیا  ایسی خاتون جس نے اپنی ہر خواہش کو خدا کی مرضی پر قربان کر کے ہمیں بتایا کہ عظیم مقصد کے لئے کس طرح قربانی دی جاتی ہے ، جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کی زندگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایک کامیاب انسان کے پیچھے کس طرح اس کی شریک حیات کا ہاتھ ہوتا ہے ، اور بالکل صحیح کہا ہے جس نے بھی کہا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔
مرد کی کامیابی  میں عورت کاہاتھ
شک نہیں کہ ہم انسانوں کو کامیابی اور نا کامی کے تحت دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں  کامیاب اور ناکا م ، کامیاب لوگ وہ ہیں  جو مشکلات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے انہیں  پچھاڑ کر منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں ، اور ناکام وہ لوگ ہوتے ہیں جو مشکلات و رکاوٹوں کے دریا میں خود کو  چھوڑ دیتے ہیں اور دریا کی پر تلاطم موجوں کے رحم و کرم پر ادھر ادھر تیرتے ہوئے   ہاتھ پیر مارتے  ہوئے دریا ہی میں غرق ہو جاتے ہیں ، یہاں پر ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک انسان کیوں کر کامیاب ہوتا ہے؟کیوں بعض لوگ ناکام رہ  جاتے ہیں؟
اگر ہم، لوگوں کی کامیابی اور ناکامی کو دیکھیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ انسان کی کامیابی اور ناکامی میں متعدد عوامل و محرکات کارفرما ہوتے ہیں ، اسی لئے یہ مقولہ مشہور ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک خاتون کا ہاتھ ہوتا ہے ‘‘  اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے کہیں ایک ماں کی صور ت، کہیں ایک بیٹی کی صورت کہیں ایک بہن کی صورت  اب یہ کامیابی کیسے کسی کو حاصل ہوتی ہے اسکا مختصر جائزہ  لیکر اس سلسلہ سے اپنی گفتگو کو ختم کر دیں تاکہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات کی مناسبت سے  کچھ ایسے  نکات پیش کئے جا سکیں جو ہم سب کے لئے مفید ہوں اور ہم کوشش کریں کہ اپنے  گھروں کو ایسا بنائیں جہاں  ایک مرد  کے  لئے ایسا اچھا ماحول فراہم ہو سکے  کہ کامیابی اسکا مقدر بن جائے۔
 گھر میں چین و سکون کا ماحول فراہم کرنا
شک نہیں ہے کہ گھر میں ہونے والی نا اتفاقیاں گھر کو جہنم بنا دیتی ہیں  اور گھریلو جھگڑوں کا سیدھا اثر  گھر کے ما حول پر پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں بہت سے   جرم  سامنے آتے ہیں مجرمو ں کی فہرست پر ایک نظر ڈالیں گے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ بہت سارے عوامل کے ساتھ انکا ایک مسئلہ یہ رہا ہے کہ گھر  اکھاڑا بنا رہتا تھا لہذا ، ڈرگس  کے  استعمال اور  منشیات وغیرہ میں ملوث ہو گئے ، اسکی وجہ یہ رہی کہ گھر سے جو محبت ملنا چاہیے وہ نہ مل سکی  چنانچہ ماہرین نفسیات بیان کرتے ہیں کہ جذبات و احساسات    جب گھٹ جاتے ہیں اور انہیں صحیح ڈائریکشن نہیں ملتا تو لوگ نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور اسی بنیادپر سماج و معاشرہ میں جرم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔(7)
اسی لئے یہ بہت ضروری ہے کہ گھر کا ماحول اچھا رہے  اور قرآن نے بھی زوجہ و شوہر کے مابین   سکون و چین کو  اپنی نشانیوں  کی صورت بیان کیا ہے۔(8)
حضور سرورکائنات کے سلسلہ سے بھی ملتا ہے کہ جب آپ تھک جاتے تھے توجناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے پاس آتے تھے اور جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا ہی کی یہ تربیت ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لئے بھی ملتا ہے کہ امام علی علیہ السلام آپ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے  ’’ جب میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کو دیکھتا ہوں تو میرے غم دور ہو جاتے ہیں‘‘۔(9)
شوہر کا احترام
انسان کی ایک فطری ضرورت اسکی شخصیت اور اسکا احترام ہے ، ایک شوہر اور زوجہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی حرمت کو محفوظ رکھیں تو اس سے گھر کا ماحول بہت خوشگوار رہتا ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ عورت کو چاہیے کہ جب شوہر گھر میں داخل ہو تو گھر کے دروازے کو اس کے لئے کھولے ، خندہ پیشانی کے ساتھ اسکا استقبال کرے ،جب وہ کہیں جا رہا ہو تو دروازے تک اسے چھوڑنے جائے یہ وہ چیز ہے جو ہے تو بہت معمولی سی لیکن شوہر کی محبت کو اپنی طرف مبذول کرنے میں بہت اثر رکھتی ہے چنانچہ   امام صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں :’’وہ عورت سعادت مند و کامیاب ہے جو اپنے شوہر کا احترام و اکرام کرے ، اسے  رنجیدہ خاطر نہ کرے اور اسکی مطیع رہے‘‘۔(10)
جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے سلسلہ سے ملتا ہے کہ آپ گرچہ پورے حجاز میں ایک جانی مانی خاتون تھیں اور لوگوں میں آپکی ثروت کا شہرہ تھا لیکن  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بہت انکساری و تواضع  کا سلوک کرتیں  ، آپکا بہت احترام کرتیں  حتی خود کو آپکی کنیز کہتیں  چنانچہ جب آپکا عقد ہو گیا اور جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جناب ابوطالب علیہ اسلام کے گھر کا رخ کیا تو جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے حد درجہ انکساری کے ساتھ فرمایا: یہ آپکا گھر ہے  آپ تشریف لائیں میں آپکی کنیز ہوں۔(11)
محبت
ایک مرد کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ گھر میں محبت  اور اپنائیت کا ماحول ہو ، اور شوہر سے زوجہ اظہار محبت اس طرح کرے کہ شوہر کے دل میں جگہ بنا لے ، چنانچہ شکسپئیر سے منسوب یہ بات کہی جاتی ہے کہ  ’’ وہ چیز جو ایک عورت کے اندر مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے  اور میرے دل کو تسخیر کرنے کا سبب بنتی ہے وہ اسکی محبت اور مہربانی ہے   اسکی خوبصورتی  نہیں ، میں ایسی خاتون کو پسند کرتا ہوں جو خوبصورت  بھلے نہ ہو لیکن  محبت کرنے والی اور چاہنے والی ہو(12) ایک مرد یہ چاہتا ہے اسکی زوجہ اس سے محبت کرے  زوجہ محبت کرے گی تو مرد بھی زندگی پر توجہ دے گا ، گھر کے امور پر توجہ دے گا لیکن اگر مرد کو یہ احساس ہو جائے کہ اسکی زوجہ اس سے محبت نہیں کرتی ہے تو  اسے احساس تنہائی گھیر لے گا و غربت و اکیلے پن کا احساس کرے گا  اور ہمیشہ مضطرب و پریشان رہے گا  ایک اچھی خاتون کا کمال  یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے شوہر کے سامنے اظہار محبت کرتی ہے اور اسے کامیابی کی عظیم بلندیوں تک لے جاتی ہے  یہاں پر ماہرین نفسیات نے یہ بات بیان کی ہے کہ محض  دل میں محبت کا ہونا کافی نہیں ہے محبت کا اظہار  بھی ضروری ہے  چنانچہ امام رضا علیہ السلام کی حدیث ہے کہ  ’’ بعض عورتیں اپنے شوہروں کے لئے بہترین غنیمت ہیں  اور یہ وہ ہیں جو اپنے شوہروں سے اظہار محبت کرتی ہیں۔(13)
جناب خدیجہ کی زندگی میں ملتا ہے کہ آپ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اظہار محبت فرماتیں اسی بنیاد پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غم و اندوہ   کا ازالہ ہوتا اورآپ  کی قوت قلب بن کر رہتیں۔(14)
آج اگر ہماری مائیں بہنیں یہ جان لیں کہ محبت اکسیر حیات ہے ، اور بہتر زندگی بغیر محبت کے ممکن نہیں تو گھر جنت بن جائے لیکن افسوس کا مقام ہے بعض لوگ  غفلت کا شکار ہیں جس کے نتیجہ میں گھر میں ہر وقت مہا بھارت سجا رہتا ہے ، ہر انسان اپنی بھڑاس نکالنے پر تلا رہتا ہے جس کی وجہ سے گھر کبھی گھر نہیں بن پاتا ہر ایک کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوسرے کو نیچا دکھایا جا سکے جبکہ اسے یہ نہیں پتہ یہ نیچے دکھانے کے سبب اسکا اپنا گھر نیچے جا رہا ہے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے جبکہ وہ اس بات کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ محبت سے بہت کچھ جیتا جا سکتا ہے ’’ الانسان عبید الاحسان‘‘۔ انسان احسان کا غلام ہے۔(15)جہاں یہ ساری چیزیں ہیں وہیں ہمیں اس بات کا دھیان بھی رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک عورت کے سر پر بہت سے کام رہتے ہیں  کھانا بنانا ، کپڑے دھونا  ، استری کرنا بچوں کو دیکھنا ، صفائی کرنا ایسے میں ہماری توقع بھی ہر وقت نہ رہے کہ ہمارے سامنے کوئی مسکراتا ہوا ہر دم کھڑا رہے یہ سخت ہے اور خاص کر ماہ مبارک رمضان میں تو بہت ہی مشکل ہے ، لہذا ہمیں بھی اپنی توقعات کا دائرہ ذرا سمیٹ کر رکھنا ہوگا ، اور اس بات کا خیال رکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں اور ہمیں بھوک و  پیاس لگتی ہے ویسے ہی ہماری زوجہ یا گھر کی عورتوں کو بھی لگتی ہے  خاص کر افطار کے وقت انکا کچن میں وقت بہت سخت گزرتا ہے ایسے میں ہم اگر دو جملے شکریے کے بول دیں گے تو اس سے انہیں حوصلہ ملے گا ۔  غرض جہاں خواتین کے لئے ضروری ہے کہ گھر کے ماحول کو اچھا بنائیں وہیں مردوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان باتوں کا خیال رکھیں جن کے سبب   نازک و حساس طبیعت پر ضرب لگتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1 ۔ ابن اثیر  البدایہ والنھایہ جلد ۲ ص ۲۹۳
2 ۔ ابن سید الناس ، عیون الاثر جلد ۲ ص ۲۹۳
3 ۔ بلاذری ، انساب الاشراف، جلد ۱ ص ۹۸
4 ۔ ابن کثیر ، البدایہ و النھایہ جلد ۲ ص ۲۹۴
5 ۔ و کانت اول من آمن باللہ و برسولہ و صدق بما جائ منہ ، ابن ہشام ، السیرۃ النبویہ ، جلد ۱ ص ۲۴۰
6 ۔ صبحی صالح ، نھج البلاغہ خطبہ ۱۹۲
7 ۔ افروز، غلام علی ہمسران برتر، ص ۲۹
8 ۔ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ روم ۲۱
9 ۔ ولقد کنت انظر الیھا فتنکشف عنی الہموم والاحزان ، ایضا جلد ۴۳ ص ۱۳۴ بحار الانوار ، جلد ۴۳، ص ۳۳، مناقب ابن شہر آشوب ، جلد ۳ ص ۳۲۰ ، سفینۃ البحار ، جلد ۲ ص ۳۷۴
10 ۔ سعیدا سعیدا امراۃ تکرم زوجھا ولا تودیہ و تطیعہ فی جمیع احوالہ  ، بروجردی ، جامع احادیث الشیعہ ، جلد ۲۵، ۴۹۰
11  ۔  الی بیتک فبیتی بیتک ، وا نا جاریتک  ، مجلسی ، بحار الانوار جلد ۱۶ ، ص ۴
12 ۔ امینی ، ابراہیم ، آئین ہمسرداری، ص ۳۲
13۔ نوری حسین ، مستدرک الوسائل ، جلد ۲ ص ۵۳۲
14 ۔ ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد ۴ ص ۱۱۱
15۔ تصنیف غرر الحکم و درر الکلم ، ص ۳۸۵

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम