Code : 2298 124 Hit

وافر مقدار میں خوراک ہونے کے باوجود 82 کروڑ لوگ بھوکے کیوں؟

بھوک سے متعلق تازہ ترین ورلڈ انڈیکس کے مطابق بہت سے مسلح تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلیاں عالمی سطح پر بھوک میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ کرہ ارض پر آج بھی بیاسی کروڑ سے زائد انسانوں کو بھوکا رہنا پڑتا ہے۔

ولایت پورٹل: عالمی سطح پر بھوک کے خاتمے کے لئے کوشاں غیر سرکاری جرمن تنظیم ’’وَیلٹ ہُنگر ہِلفے‘‘ یا ’’ورلڈ ہَنگر ہیلپ‘‘ (WHH) کی طرف سے پندرہ اکتوبر کو جاری کردہ ’’ورلڈ ہَنگر انڈیکس‘‘ کے مطابق آج کی دنیا میں بھی 822 ملین یا 82 کروڑ سے زائد انسان ایسے ہیں، جنہیں بھوک کے مسئلے کا سامنا ہے۔
اگرچہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ دنیا میں کوئی بھی انسان بھوکا نہ سوئے لیکن ماضی میں اس عالمی مسئلے پر قابو پانے کے لئے جو بھی کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں، وہ آج بھی جگہ جگہ پائے جانے والے مسلح تنازعات، جنگوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تقریباﹰً ضائع ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ جدید تر دنیا میں بھی بھوک مسلسل پھیلتی جا رہی ہے۔
کیا بھوک ختم کی جا سکتی ہے؟
’’ورلڈ ہَنگر ہیلپ‘‘ کے ایک مرکزی عہدیدار فریزر پیٹرسن نے یہ عالمی انڈیکس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ آج کی دنیا میں سائنسی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور بہتر مالیاتی امکانات کے باعث یہ ممکن ہے کہ دنیا سے بھوک کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ تین برسوں میں دنیا میں بھوک کے شکار انسانوں کی تعداد میں دو کروڑ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا:سن 2000ء سے لے کر آج تک دنیا میں مسلسل کئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں عالمی سطح پر بھوک میں تقریباﹰ 31 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت دنیا کے تقریباﹰً سبھی ممالک اور خطوں میں دیکھنے میں آئی ہے‘‘۔
تینتالیس ممالک میں صورت حال نہایت سنجیدہ
فریزر پیٹرسن کی تنظیم اپنے پارٹنر ادارے ’'کنسرن ورلڈ وائڈ‘‘ کے ساتھ مل کر ہر سال ’’ورلڈ ہَنگر انڈیکس‘‘ جاری کرتی ہے۔ انہوں نے سال 2019ء کے لئے یہ انڈیکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وسطی افریقی جمہوریہ دنیا کا وہ ملک ہے، جہاں 2017ء سے بھوک کا مسئلہ انتہائی حد تک شدت اختیار کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ چار دیگر ممالک یمن، چاڈ، مڈغاسکر اور زیمبیا وہ ممالک ہیں، جہاں بھوک کے مسئلے کی شدت تشویش ناک حد تک پہونچ چکی ہے۔
پیٹرسن کے مطابق دنیا کے جن ممالک اور خطوں میں آج بھی وسیع پیمانے پر بھوک پائی جاتی ہے، وہاں اس کی بڑی وجوہات میں جنگیں، مسلح تنازعات اور ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ مزید یہ کہ اس انڈیکس کی تیاری کے لئے دنیا کے جن 117 ریاستوں سے متعلق اعداد و شمار جمع کئے گئے، ان میں سے 43 ممالک میں بھوک کے مسئلے کی صورت حال سنجیدہ پائی گئی۔
دنیا میں ہر 9 میں سے 1 انسان بھوکا
اس نئے عالمی انڈیکس کے مطابق دنیا میں اس وقت جو 822 ملین انسان بھوک کا شکار ہیں، ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی آبادی میں ہر 9میں سے 1 انسان کو اس مسئلے کا سامنا ہے۔
اس سے بھی پریشان کن بات یہ ہے کہ صرف تین برس قبل 2016ء میں یہ مجموعی تعداد 800 ملین سے بھی کم تھی۔ دوسرے لفظوں میں گزشتہ تین سال کے دوران بھوک کے شکار انسانوں کی تعداد میں کم از کم دو کروڑ سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
دنیا میں بھوک کے مسئلے سے متعلق عالمی انڈیکس 2006ء سے ہر سال جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے لئے اقوام متحدہ کے تمام ذیلی اداروں کے وہ اعداد و شمار جمع کئے جاتے ہیں، جو ماضی کے حالات کے علاوہ مستقبل کے امکانات کا احاطہ بھی کرتے ہیں اور جن میں بھوک، اشیائے خوراک کی دستیابی اور بچوں میں شرح اموات سمیت بہت سے شعبوں کا ڈیٹا ریکارڈ ہوتا ہے۔
قارئین کرام! یہ تو اس تنظیم کی طرف سے شائع کئے گئے عالمی ریکارڈس تھے لیکن اس درمیان ہمیں یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس میں لوگ کن مشکلات میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ چنانچہ بین الاقوامی سطح پر بھوک سے متأثر  خطے کے حوالے سے 2017 میں جاری کئے گئے  عالمی اعداد و ارقام کے مطابق بھارت 119 ممالک میں سے 100 ویں نمبر پر آتا ہے جہاں 14.5 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ دوسری جانب حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اس ملک میں سالانہ 14 بلین ڈالر مالیت کی خوراک ضائع کردی جاتی ہے۔
اب اگر غور کیا جائے تو غریبوں کے لئے اور بھوکوں کے لئے الگ سے فاؤنڈیشن چلانے کی شاید زیادہ ضرورت نہ آئے بلکہ اگر ہم اپنے غذائی پروگرام میں دوسروں کو سہیم و شریک بنا لیں اور صرف اتنا ہی کھانا بنائیں جتنا ہمیں ضرورت ہے تو ہمارے ملک سے بھوک کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔    



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम