افغانستان سے نکل کر جنوبی یمن میں افواج کی تعیناتی ؛نئی امریکی سازش(ایک تجزیہ)

امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنی حالیہ سازش میں ایک نیا منصوبہ بنایا ہے جس میں جنوبی یمن میں اپنی فوج کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

ولایت پورٹل:گذشتہ منگل کی شام  کچھ خبروں کے ذرائع نے دعوی کیا کہ امریکہ نے جنوبی یمن کے صوبہ الحجہ میں واقع العند فوجی اڈے پر تقریبا 300فوجیوں کو تعینات کیا تھاجہاں سے باب المندب پر نظر رکھی جاسکتی ہے، اس خبر کے تجزیہ میں  درج ذیل نکات کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔
پہلےیہ کہ کچھ اطلاعات کے مطابق  یہ افواج افغانستان میں بگرام اڈے سے انخلا کی گئی فورسز کا حصہ ہیں، اس بنیاد پریہ واضح ہے کہ امریکہ اپنے دعووں کے برخلاف  خطے سے پوری طرح سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
دوسرا نکتہ ان قوتوں کے محل وقوع کے انتخاب کے بارے میں ہےکہ  امریکہ نے باب المندب کے اسٹریٹجک اور جغرافیائی سیاسی آبنائے کی نگرانی کے لئے العند اڈے پر فوج تعینات کی ہےاس لیے کہ اس کا دوسرا مقصد خلیج عدن میں خاص طور پر اہم جزیرے میون میں جزیروں کا تسلط ہے جو العند کے اڈے پر فورسز کی تعیناتی سے ہی ممکن ہوگا۔
تیسرا نکتہ  یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے ایک کثیر جہتی کھیل کھیلا ہے،بلاشبہ اس خطے میں امریکی فوج کی موجودگی سے متحدہ عرب امارات کے لئے متعدد اسٹریٹجک فوائد ہوں گے جس میں متحدہ عرب امارات کے اتحادیوں کی حمایت کرنا اور جنوب میں سلامتی فراہم کرنا شامل ہے نیز متحدہ عرب امارات کو اس امریکی محبت کامختلف طریقوں سےبدلہ چکا  ہوگا!
 ایک اور نکتہ یہ ہے کہ یہ اقدام یمن میں امریکہ کی براہ راست اور سرکاری طور پر موجودگی کا پیش خیمہ لگتا ہے،اس لیے کہ یمن کے صوبہ المہرہ میں واقع الغیضہ اڈے پر امریکہ پہلے سے موجود ہے۔
واضح رہے کہ امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور اس کا اعلان اس حقیقت کی عکاسی کر سکتا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اپنی ناکام کوششوں اور صورتحال کی وجہ سے امریکہ یمن میں جنگ بندی اور امن مذاکرات سے پوری طرح مایوس ہوچکا ہےنیز اس طرح اس نے اپنی حکمت عملی کو عوام کے سامنے پیش کردیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ واشنگٹن کے اس اقدام کو مزحمتی تحریک پر بڑے دباؤ کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اپنے دعووں کے برعکس  دباؤ ڈالنے اور مزاحمتی تحریک کے خلاف کئی محاذ کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین