وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس ہار گئے تو امریکی عوام کو دسیوں سال اس کے نتائج برداشت کرنا ہوں گے:بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے پنسلوانیا میں ایک تقریر میں خبردار کیا کہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ شکست کے اثرات اس ملک کے عوام کے لیے کئی دہائیوں تک رہیں گے۔

ولایت پورٹل:امریکی صدر جوبائیڈن، جو اپنے ایک اور پارٹی ساتھی اور سابق صدر براک اوباما کے ساتھ پنسلوانیا گئے تھے تاکہ ووٹروں کو اس شہر کے گورنر کے ڈیموکریٹک مشیر جان فیٹرمین کو ووٹ دینے کی ترغیب دلائیں، نے خبردار کیا کہ اگر ڈیموکریٹس وسط مدتی انتخابات میں ہار گئے تو اس شکست کے نتائج کئی دہائیوں تک امریکی عوام کو جھیلنا پڑیں گے۔
دوسری جانب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ریاست کا دورہ کیا اور ریاست میں اپنی پارٹی کی مجموعی فتح کی پیش گوئی کی نیز ووٹرز کو جمہوریہ طلب کے نمائندے ڈاکٹر مہمت از کو ووٹ دینے کی ترغیب دلای۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق بائیڈن نے فلاڈیلفیا کی ٹیمپل یونیورسٹی میں ڈیموکریٹک حامیوں کے ایک اجتماع میں یہ بھی کہا کہ یہ الیکشن ہماری زندگی کے اہم ترین انتخابات میں سے ایک ہے اور اس کے نتائج کئی دہائیوں تک ملک پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،تاہم یہ نتائج ہمارے ہاتھ میں ہیں، یہ امریکہ میں دو بالکل مختلف خیالات کے درمیان انتخاب ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے پٹسبرگ میں ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ اگر آپ ملک کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں اور اس منگل کے بعد امریکی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ریپبلکن کو بڑے پیمانے پر ووٹ دینا چاہیے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین