Code : 1314 118 Hit

رمضان المبارک کی پہلی رات کے اعمال

سوچتے سوچتے فرصت گذر گئی اور اب ہمیں شعبان المعظم کو الوداع کہنا ہوگا ۔ہمیں نہیں معلوم آپ نے رسول اللہ(ص) کے مہینہ سے کتنا استفادہ کیا؟اور اپنے اذکار و اعمال سے اس مہینہ کی برکتوں کو کس مقدار میں حاصل کیا؟بہر حال اب ماہ شعبان اپنے آخری لمحات میں وارد ہونے والا ہے اور اس کی جدائی کی حسرت ان افراد پر بہر حال گراں گذرے گی جنہوں نے اس کے ایک ایک لمحہ کی قدردانی نہیں کی لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جنہوں نے ان دونوں مہینوں(رجب و شعبان) سے استفادہ کیا ہے اور رمضان المبارک کے لئے تیاری کا سامان فراہم کیا ہے۔

ولایت پورٹل: فرصت کے لمحات بڑی تیزی سے گذرجاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے گویا کل ہی کی بات ہے جب ہم ماہ رجب میں داخل ہوئے تھے اور ہم نے سوچا تھا کہ اس برس کے رجب اور شعبان گذشتہ برسوں کے رجب و شعبان سے بہتر گذریں گے اور اس مرتبہ ہم زیادہ تیاری اور زیادہ معنویت کے ساتھ رمضان المبارک میں داخل ہونگے۔
لیکن سوچتے سوچتے فرصت گذر گئی اور اب ہمیں شعبان المعظم کو الوداع کہنا ہوگا ۔ہمیں نہیں معلوم آپ نے رسول اللہ(ص) کے مہینہ سے کتنا استفادہ کیا؟اور اپنے اذکار و اعمال سے اس مہینہ کی برکتوں کو کس مقدار میں حاصل کیا؟بہر حال اب ماہ شعبان اپنے آخری لمحات میں وارد ہونے والا ہے اور اس کی جدائی کی حسرت ان افراد پر بہر حال گراں گذرے گی جنہوں نے اس کے ایک ایک لمحہ کی قدردانی نہیں کی لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جنہوں نے ان دونوں مہینوں(رجب و شعبان) سے استفادہ کیا ہے اور رمضان المبارک کے لئے تیاری کا سامان فراہم کیا ہے۔
بہر حال ہم ماہ رجب شعبان سے نکل کر اب شھراللہ یعنی رمضان المبارک میں پہونچنے والے ہیں ایسا مہینہ جس میں عبادتوں کا ثواب کئی گنا ہوجاتا ہے،جس میں شیطان کو قید کردیا جاتا ہے ایسا مہینہ جس میں سونا بھی عبادت ہے اور سانس لینا بھی۔اب ہمیں ہوشیار رہنا چاہیئے کہ اس مبارک مہینہ کے لمحات ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائیں یہ ایسا مہینہ اور اتنا باعظمت مہینہ ہے کہ جس کے مانند کوئی دوسرا مہینہ خلق نہیں ہوا ہے۔
یوں تو ماہ رمضان المبارک کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں لیکن ہم آپ کی خدمت میں اس روایت کو پیش کرنا چاہتے ہیں کہ جب ماہ رمضان المبارک کی آمد پر رسول خدا(ص) نے مؤمنین خطاب کیا اور رمضان المبارک پر تپاک انداز میں استقبال فرمایا:’’یا ایها الناس قد اظلکم شهر عظیم مبارک، شهر فیه لیلة خیر من الف شهر، جعل الله صیامه فریضة و قیام لیله تطوعا، من تقرب فیه بنافلة من الخیر کان کمن ادی فریضة فیما سواه، و هو شهر الصبر، و الصبر ثوابه، الجنه، و شهر المواسات و شهر یزاد فی رزق المؤمن، و شهر اوله رحمة،و اوسطه مغفرة، و آخره عتق من النار، و هو للمؤمن غنم و للمنافق غرم‘‘۔
اے لوگوں! تمہارے سروں پر عظیم و مبارک مہینہ نے سایہ کرلیا ہے۔ ایسا مہینہ جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس کے روزوں کو واجب کیا ہے اور اس کی راتوں میں عبادت کرنے کو مستحب قرار دیاہے۔جو شخص اس مہینہ کی نافلہ بجا لاکر اللہ سے قربت کا خواہاں ہو تو وہ شخص کے مانند ہے جس نے اس مہینہ کے علاوہ اپنے واجبات انجام دیئے ہو ۔یہ صبر کا مہینہ ہے۔اور صبر کا ثواب فقط جنت ہے۔یہ دوسروں کے ساتھ مواسات و بردباری کرنے کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مؤمن کا رزق وسیع ہوجاتا ہے۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء میں رحمت درمیان میں مغفرت اور آخر میں جہنم سے رہائی کا پروانہ ملتا ہے۔یہ مہینہ مؤمن کے لئے غنیمت اور منافق کے لئے نقصان و فضیحت ہے۔
رمضان المبارک کی پہلی رات کے اعمال
رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی کئی اعمال بجالانا مستحب ہیں:
1۔ اس مہینہ کا چاند دیکھنا:سب سے پہلے اس مہینہ کے چاند کو دیکھنا اور بعض علماء نے تو ماہ رمضان المبارک کے چاند دیکھنے کو واجب شمار کیا ہے۔
2۔جیسے ہی چاند نظر آجائے تو اس کی طرف اشارہ نہ کریں بلکہ قبلہ رخ کھڑے ہوجائیں اور ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر چاندکو خطاب کرکے وہ دعائیں پڑھیں جو مفاتیح الجنان میں نقل ہوئی ہیں۔
3۔غسل کرنا
4۔قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا۔
5۔پہلی رات میں دو رکعت نماز پڑھنا جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ انعام پڑھا جائے اور خدا سے دعا کی جائے کہ وہ ہی اس کا کفیل رہے اور ہر اس چیز سے اسے محفوظ رکھے جس چیز کا اسے خطرہ ہو۔
6۔نماز مغرب کے بعد امام محمد تقی علیہ السلام سے منقول دعا کا پڑھنا۔
7۔پہلی شب میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول یہ دعا:’’ اللَّهُمَّ رَبَّ شَهْرِ رَمَضَانَ مُنَزِّلَ الْقُرْآنِ هَذَا شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِی...‘‘ پڑھنا۔
8۔اسی طرح رسول اللہ (ص) سے نقل ہوا ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی رات کو یہ دعا پڑھی جائے:’’الْحَمْدُلِلَّهِ الَّذِی أَکْرَمَنَا بِکَ أَیُّهَا الشَّهْرُ الْمُبَارَکُ اللَّهُمَّ...‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
۱۔مستدرک الوسائل مرحوم نوری نقل از وقایع الایام، ص 436.
۲۔وسائل الشیعه، ج10، ص301.
۳۔پایگاه اطلاع‌رسانی دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله خامنه‌ای
۴۔کتاب روزه، درمان بیماری های روح و جسم؛سید حسین موسوی راد لاهیجی، صفحه 69
۵۔سائیٹ حوزه علمیہ قم۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम