Code : 4398 29 Hit

حسن بصری کے ساتھ امام سجاد(ع) کا مناظرہ

امام امیرالمؤمنین(ع) کی یہ پیشین گوئی تمام پیشین گوئیوں کی طرح بالکل درست اور حق ثابت ہوئی اور اس شخص نے نبی امیہ کی وہ خدمت انجام دی کہ جس کے سبب بعض مفکرین و محققین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر حسن بصری کی زبان اور حجاج بن یوسف کی شمشیر نہ ہوتی تو مروانیوں کی حکومت آغاز میں ہی زندہ در گور ہوجاتی ۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! حسن بصری پہلی صدی ہجری کا اہل سنت عالم اور تابعی تھا اس کے مذہبی چہرے ، ظاہری دینداری اور شہرت سے بنی امیہ نے اپنی حکومت کی بساط کو مضبوط کرنے کے لئے بھرپور استفادہ کیا۔
امام علی(ع) کی حکومت کے زمانے میں حسن بصری ایک نوجوان تھا چنانچہ جنگ جمل کو فتح کرنے کے بعد جب امام(ع) بصرہ میں داخل ہوئے اور وہاں کے باشندے آپ کا والہانہ استقبال کرنے کے لئے گھروں سے نکلے تو اس بھیڑ میں آپ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ جس کے ہاتھ میں قلم اور قرطاس ہے اور جو کچھ امام (ع) فرما رہے ہیں وہ لکھ رہا ہے آپ(ع) نے با آواز بلند اسے صدا دی اور فرمایا : کیا کر رہے ہو ؟
حسن بصری نے جواب دیا : میں آپ کے کلمات کو قلمبند کر رہا ہوں تاکہ آپ کے بعد انہیں لوگوں کےسامنے بیان کرسکوں ۔
امام(ع) نے یہاں ایک جملہ ارشاد فرمایا جو قابل تأمل ہے:’’اما ان لكل قوم سامريا و هذا سامري هذه الامۃ لانه لايقول لامساس و لكنه يقول لاقتال‘‘۔ اے لوگوں آگاہ ہوجاؤ ہر امت میں ایک سامری موجود ہوتا ہے جو اسے راہ توحید سے بھٹکا دیتا ہے اور اپنے مذہبی چہرے کے سبب لوگوں کو منحرف کردیتا ہے اور یہ حسن بصری اس امت کا سامری ہے۔بس موسیٰ کے زمانے کے سامری اور اس سامری میں صرف فرق یہ ہے کہ وہ یہ کہتا تھا کہ کوئی مجھے نہ چھوئے لیکن یہ کہتا ہے کہ بنی امیہ سے جنگ کرنا غلط ہے۔(۱)
قارئین کرام! امیرالمؤمنین (ع) کی اس تعبیر کو ملاحطہ کرکے آپ موسیٰ (ع) کے زمانے میں موجود سامری کی طرف متوجہ ہوگئے ہوں گے کہ یہ وہی شخص تھا جس نے موسیٰ کے کوہ طور پر چلے جانے کے بعد پوری امت کو بچھڑے کی پرستش میں ملوث کردیا تھا چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ اپنے اس قبیح کام کے سبب سامری پاگل ہوگیا تھا اور اسے وسوسہ کا مرض لاحق ہوگیا تھا اور وہ جس کو بھی دیکھتا تھا اس سے ڈر کر فرار کرجاتا تھا اور کہتا تھا ’’ لا مساس‘‘ مجھے ہاتھ مت لگانا ۔
امام امیرالمؤمنین(ع) کی یہ پیشین گوئی تمام پیشین گوئیوں کی طرح بالکل درست اور حق ثابت ہوئی اور اس شخص نے نبی امیہ کی وہ خدمت انجام دی کہ جس کے سبب بعض مفکرین و محققین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر حسن بصری کی زبان اور حجاج بن یوسف کی شمشیر نہ ہوتی تو مروانیوں کی حکومت آغاز میں ہی زندہ در گور ہوجاتی ۔ چونکہ حسن بصری اپنے زمانے کا معروف خطیب بھی تھا اور اس کی زبان لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی  لہذا وہ اپنے خطاب کے دوران بنی امیہ کے لئے  بڑی مہارت سے تبلیغ کرتا تھا چنانچہ وہ اپنی ایک تقریر کے دوران کہہ رہا تھا کہ رسول اللہ(ص) نے (نعوذ باللہ )فرمایا: تم حکمرانوں کی بُرا بھلا مت کہا کرو چونکہ اگر وہ کوئی نیکی کریں گے تو انہیں انعام ملے گا اور تمہیں بھی ان کی قدر دانی کرنا چاہیئے اور اگر کچھ بُرا کریں تو اس میں خود ان کا ہی نقصان ہے اور آپ پر ضروری ہے کہ صبر کا مظاہرہ کریں۔چونکہ حکمراں اللہ کی طرف سے بندوں کا امتحان ہوتے ہیں اور اللہ ان کے سبب جس سے چاہتا ہے انتقام لیتا ہے ۔ نیز یہی وہ شخص تھا جس نے فتوی دیا تھا :بنی امیہ کے حکمرانوں کی اطاعت واجب ہے اگرچہ یہ ظلم ہی کیوں نہ کریں چونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ معاشرے میں ایسی اصلاحات اور ترقی لانا چاہتا ہے کہ جن کے اثار اور ثمرات ان کے مظالم سے  کہیں زیادہ ہیں ۔
بہر حال وہ امام سجاد(ع) کے زمانے کے معروف مذہبی لوگوں میں سے تھا چنانچہ امام (ع) نے اس کے ساتھ ایک ایسی جگہ مناظرہ کیا جہاں بہت سے لوگ اس کے اطراف میں جمع تھے اور اس کی فضول گوئی کو سن رہے تھے۔
امام سجاد(ع) کی حسن بصری سے گفتگو
ایک دن حسن بصری منی میں حاجیوں کے ایک کثیر مجمع کو وعظ و نصیحت کر رہا تھا اس طرف سے چوتھے امام (ع) کا گذر ہوا جیسے ہی آپ نے یہ منظر ملاحظہ کیا تو آپ کھڑے ہوگئے اور فرمایا :
کچھ تھوڑی خاموشی اختیار کرو
امام : بینک و بین اللہ ، کیا تمہارا کردار ایسا ہے کہ اگر کل تمہیں موت آجائے تو کیا تم اپنے اعمال سے راضی ہو ؟
حسن بصری : نہیں ۔
امام : کیا تم اپنے کردار کو تبدیل کرنا چاہتے ہو اور ایسے اعمال بجا لانا چاہتے ہو جو موت  کے وقت اور آخرت میں تمہارے کام آئیں ؟
حسن بصری نے کچھ دیر اپنے سر کو جھکا لیا اور پھر اٹھا کر کہا : میں زبان سے تو کہتا ہوں کہ میں اپنی رفتار و کردار کو تبدیل کروں گا لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی ۔
امام: کیا تمہیں یہ توقع ہے کہ محمد(ص) کے بعد بھی کوئی بنی آئے گا اور تم اس کی پیروی کرکے سعادت مند بن جاؤگے؟
حسن بصری : نہیں ۔
امام : کیا تمہیں یہ امید اور توقع ہے کہ اس زندگی کے بعد تمہیں فرصت ملے گی جہاں تم دوبارہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کر سکو گے ؟
حسن بصری : نہیں۔
امام : کیا تم نے کسی با شعور انسان کو دیکھا ہے کہ جو تمہاری اتباع کرنے کو محبوب جانتا ہو؟ اور جیسا کہ تم نے خود اعتراف کیا ہے کہ تم خود اپنے اعمال و کردار سے راضی نہیں ہو اور نہ ہی ان کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہو ۔ نیز یہ بھی عقیدہ رکھتے ہو کہ کوئی دوسرا پیغمبر بھی آنے والا نہیں ہے اور نہ ہی تمہیں اس دنیا کے بعد کہیں اور جاکر اعمال کرنے کی فرصت مل سکے گی تو تم اس افسوس ناک حالت کے باوجود دوسروں کو کس طرح وعظ و نصیحت کرسکتے ہو ؟
امام سجاد(ع) کی اس منطقی گفتگو نے اس سخنور کو اتنا جھنجوڑ دیا کہ پھر اس میں اپنے خطاب کو جاری رکھنے کی سکت باقی نہ رہی اور جیسے ہی امام (ع) وہاں سے کچھ دور چلے گئے اس نے مجمع سے پوچھا : یہ کون تھا ؟
بتلایا گیا یہ علی ابن الحسین(ع) تھے ۔
حسن بصری : حقیقت میں ہی وہ خاندان علم و حکمت سے ہیں ۔
چنانچہ اس کے بعد پھر کسی نے حسن بصری کو لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ :
1- بحارالانوار ج 10، ص .146


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین