ہم پر کیوں الزام لگاتے ہو؟1200 سے زیادہ امریکی سائنسدانوں کا وائٹ ہاؤس کے نام تنقیدی خط

1200 سے زیادہ امریکی دانشوروں نے وائٹ ہاؤس کے نام تنقیدی خط لکھ کر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سائنسی اصولوں پر مبنی فیصلے کرے اور دانشوروں پر الزام لگانے سے باز رہے۔

ولایت پورٹل:امریکی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطا بق پیر کے روز ایک ہزار دو سو سے زیادہ امریکی سائنسدانوں  نے وائٹ ہاؤس کے نام کھلا خط لکھ کر معاشرے کے اس حصے پر حالیہ الزامات کی تنقید کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ دانشور طبقےنے امریکی تاریخ میں یہ کوشش کی ہے کہ ہمیشہ سیاست بازی سے پرہیز کیا جائے اورانھوں نے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے "سائنسی ماہرین" کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، 1220 دانشور، جن میں سے کچھ امریکی حکومت میں بھی  کام کرتے ہیں ، نے ٹرمپ سے  مطالبہ کیا ہے کہ  وہ امریکی حکومت میں سائنس پر مبنی پالیسیاں بحال کریں، آب و ہوا سائنس کے ماہر اور اس خط کے کوآرڈینیٹر بینجمن سینٹر   نے کہا کہ  اس امید میں کہ برا وقت گذر جائے گا دفتروں میں چھپ کر بیٹھ جانا اور دروازے بند کر لینا، عالمی وبا یا عالمی آب و ہوا کی تبدیلی کے پیش نظر ، بقا کی ایک کمزور حکمت عملی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے واشنگٹن پوسٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکی حکومت کانگریسو اسپورٹ پیکیج میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے نمٹنے کے پیش نظرجانچ اور دیگر اقدامات کے لیےکروڑوں ڈالر کے بجٹ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، ادھر ، ٹرمپ نے ہفتہ کی شب ٹیلیویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ ماسک لگانا کورونا وائرس سے لڑنے میں مددگار نہیں ہے لہذا وہ عمومی جگہوں پر ماسک پہننے کو ضروری نہیں قرار دیں گے،امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے صدر فرانسس کولنس نے کہا کہ یہ بہت حیرت کی بات ہے کہ ماسک پہننا بھی ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔
  ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین