Code : 3904 22 Hit

کام کی صحیح تقسیم؛ گھر اور معاشرہ کی اہم ضرورت

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک دوسرے کی ضرورتوں کے پورا کرنے والا بنایا ہے۔ چونکہ انسان اللہ کی ایک معاشرتی اور اجتماعی مخلوق ہے یعنی یہ کبھی اکیلا زندگی نہیں گذار سکتا۔ بلکہ انسان ایک دوسرے سے ایک زنجیر کے حلقوں کی طرح آپس میں متصل اور ملا ہوا ہے۔ اس طرح کہ ہر ٹکڑا ایک جزء کو تشکیل دیتا ہے۔ کوئی یہ تصور نہ کرے کہ میں اکیلا رہ لوں گا۔ بلکہ اس کی فطرت کا تقاضہ یہ ہے کہ یہ اجتماع میں رہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔کچھ ذمہ داریاں یہ پوری کرے اور کچھ اس کا بھائی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک دوسرے کی ضرورتوں کے پورا کرنے والا بنایا ہے۔ چونکہ انسان اللہ کی ایک معاشرتی اور اجتماعی مخلوق ہے یعنی یہ کبھی اکیلا زندگی نہیں گذار سکتا۔ بلکہ انسان ایک دوسرے سے ایک زنجیر کے حلقوں کی طرح آپس میں متصل اور ملا ہوا ہے۔ اس طرح کہ ہر ٹکڑا ایک جزء کو تشکیل دیتا ہے۔ کوئی یہ تصور نہ کرے کہ میں اکیلا رہ لوں گا۔ بلکہ اس کی فطرت کا تقاضہ یہ ہے کہ یہ اجتماع میں رہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔کچھ ذمہ داریاں یہ پوری کرے اور کچھ اس کا بھائی۔
آج کے ترقی یافتہ دور میں اپنی اپنی مہارت کے اعتبار سے کام کی تقسیم ایک اہم مقولہ کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔چونکہ اگر انسان صرف وہ کام انجام دے جو وہ جانتا ہے اور جس میں اسے مہارت حاصل ہے۔ اس کے دو اہم فائدے ظاہر ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ وہ کام اچھے طریقہ سے انجام پائے گا اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے معینہ اور مطلوبہ وقت میں پورا ہوجائے گا۔ لیکن اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ہر انسان ہر کام بس خود ہی انجام دے گا تو نہ یہ امر معقول ہے اور نہ ہی ممکن۔پس اگر گھر سے لیکر معاشرے تک سب وہی انجام دیں جن میں انہیں مہارت ہو تو اس کے بہترین اور کار آمد نتائج برآمد ہونگے۔
معاشرہ میں رہنے کے لئے کام کی تقسیم
کچھ مفکرین کا یہ نظریہ ہے کہ متعدد ضرورتوں کے سبب یہ معاشرہ وجود میں آیا ہے چونکہ طبیعی سی بات ہے کہ جب لوگ ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تبھی ان میں یہ فکر پیدا ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایک مخصوص اپنا گروہ اور جماعت بنائیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اور جب یہ چھوٹے چھوٹے گروہ بڑے مجموعہ اور گروہ میں تبدیل ہوتے ہیں تو یہیں سے کسی معاشرے کی داغ بیل پڑجاتی ہے۔ اور اس طرح کمال اور ترقی کی راہیں ہموار ہوجاتی ہے جس طرح کہ آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں۔ لہذا مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کو چاہیئے کہ وہ ماہر اور باتجربہ لوگوں سے مدد لیں تاکہ معاشرہ بہتر طور پر آگے بڑھتا رہے اور اس کے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے رہیں۔(۱)
جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا کہ کوئی بھی ایک شخص تمام چیزوں اور امور میں ماہر اور با تجربہ نہیں ہوسکتا لہذا ضرورت کا تقاضہ یہ ہے کہ معاشرہ کے تمام افراد اپنی اپنی مہارت کے اعتبار سے کام کو تقسیم کریں لیکن یہ توجہ رہے کہ یہ کام کی تقسیم مہارت اور تخصص کے پیش نظر ہو صرف تعلقات کے بنیاد پر کسی ایسے فرد کو وہ کام سپرد نہ کردیا جائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ چنانچہ اسی امر کی طرف مولا امیر المؤمنین(ع) بھی تأکید فرماتے ہیں اور ایسے کام کے آثار، نتائج اور برکات کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں:’’ کاموں کو تقسیم کرلینے کے سبب لوگوں کی بہت سی ضرورتیں اور حاجتیں برطرف ہوتی ہیں اور ان کی زندگی کی مشکلات دور ہوتی ہیں‘‘۔(۲)
یا حضرت(ع) ایسے افراد کے بارے میں فرماتے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ہم اپنے سارے کام خود ہی کر لیں گے اور ہمیں کسی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی:’’ جو شخص بغیر مہارت کے متعدد و مختلف کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا‘‘۔(۳)
گھر میں مرد اور عورت کے درمیان کام کی تقسیم
ایک اہم شعبہ کہ جہاں کام کے تقسیم کی بہت اہمیت ہے وہ گھر کے اندر مرد اور عورت کے درمیان کام کی صحیح تقسیم ہے ۔چنانچہ گھر یا معاشرے کے وہ کام  جو ظاہراً دشوار اور سخت ہوں انہیں مردوں کے حوالہ کرنا چاہیئے چونکہ ان کی جسمانی توانائی کے پیش نظر وہ ان سخت اور مشقت بھرے کاموں کو بہتر طور پر انجام دے سکتیں ہیں ۔اور چونکہ خواتیں کا جسم اس قدر طاقتور نہیں ہوتا ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ آسان کام اپنی ذمہ داریوں میں شامل کریں۔
اگر ہمیں گھر کے اندر شوہر اور بیوی کے درمیان کام کی صحیح تقسیم کا اندازہ لگانا ہے تو ہمیں سیرت علی و فاطمہ(ع) کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔چنانچہ خود سرکار ختمی مرتبت(ص) نے ان دونوں کے لئے کاموں کی تقسیم اس طرح سے کی تھی کہ گھر سے باہر کے تمام کام علی(ع) کے سپرد کئے گئے تھے اور گھر کے اندر کی تمام ذمہ داریاں بی بی (س) کے حصہ میں آئیں تھیں۔اگرچہ ایسا نہیں تھا کہ علی(ع) اپنی تمام مصروفیات کے باوجود جب وقت ملتا تھا تو گھر میں حضرت زہرا(س) کا تعاون فرمایا کرتے تھے چنانچہ امام جعفر صادق(ع) امام علی(ع) اور حضرت فاطمہ زہرا(س) کے درمیان کام کی تقسیم  اور ایک دوسرے کے تعاون کے حوالہ سے فرماتے ہیں:’’حضرت علی(ع) گھر میں کھانا بننے کے لئے باہر سے ایندھن لکڑی کا انتظام کرتے تھے، کنویں سے پانی لاتے تھے، گھر کی صفائی کرتے اور دال کو صاف کروانے میں مدد کرتے تھے جبکہ حضرت فاطمہ زہرا(س) گیہوں اور جو کو پیستی تھیں، آٹا گوندھ کر روٹی پکاتی تھیں‘‘۔(۴) اس حدیث سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان تعاون کی فضا بحال رکھنا اس امر کا عکاس ہے کہ ہمیں اپنے ذمہ کاموں کی انجام دہی کے بعد اگر وقت ملے تو  گھر کے کاموں میں بیوی کا ہاتھ بٹانا چاہیئے۔
البتہ یہ ذہن عالی میں رہے کہ کوئی بھی کام نہ خاص طور پر زنانہ ہے اور نہ ہی مردانا، بلکہ صرف وہ کام جو فطری طور پر اللہ نے صرف عورت کے ذمہ لگائیں ہیں انہیں ہم زنانہ کام کہہ سکتے ہیں جیسے گھر میں بچوں کی پرورش کرنا، انہیں دودھ پلانا۔ ظاہر ہے یہ زنانہ کام ہوسکتے ہیں  یا وہ کام جو اللہ نے صرف مرد کی ذمہ داری قرار دیئے ہیں ان کاموں کو مردانہ کام کہہ سکتے ہیں جیسا کہ اپنے اہل و عیال کے کھانے پینے اور ضرورتوں کا سامان فراہم کرنا ۔ یہ شریعت کی نگاہ میں مردانہ کام ہوسکتے ہیں ۔ورنہ ہر کام میں انسان اپنے سلیقہ کے اعتبار سے کسی بھی کام کو اختیار کرسکتا ہے لیکن یہ بات ضرور مد نظر رہے گھر یا معاشرے میں جو کام جس کے سپرد کیا جائے اس میں کسی طرح کی سستی اور کاہلی کی گنجائش نہ ہو بلکہ معینہ وقت پر سب اپنے اپنے کاموں کو اپنا شرعی اور معاشرتی فریضہ سمجھ کر ادا کریں تو معاشرہ کمال کی جانب گامزن ہوجائے گا۔ چنانچہ امام علی(ع) ایک خط میں اپنے فرزند اکبر حضرت امام حسن مجتبیٰ(ع) کو تحریر کیا:’’بیٹا! گھر کے خدمت گذاروں میں سے ہر ایک کا کام معین کرو اور اس کام کی نسبت ان سے باز پرس کرو ۔کاموں کی صحیح تقسیم کرنا سبب بنتی ہے کہ کام ایک دوسرے کے بھروسہ نہ پڑا رہے اور کوئی بھی اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں سستی نہ کرے‘‘۔(۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔رضا علی کرمی،  علل تنبلی و درمان آن، قم: انتشارات قلمگاه، 1398، صفحہ 118.
۲۔نہج البلاغہ، حکمت 199/2۔
۳۔سابق کتاب، 726و728، حکمت 403۔
۴۔بحارالانوار، ج 43، ص 151، ح 7۔
۵۔نہج‌البلاغہ، ص 537 و 536، مکتوب 31/119۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین