افغانستان میں قیام امن کے لیے ایران کے ساتھ اتفاق رائے لازمی ہے:پاکستانی وزیر خارجہ

پاکستانی وزیر خارجہ جو کل سے اسلامی جمہوریہ ایران سمیت خطے کا دورہ کرنے والے ہیں ، نے افغانستان میں دیرپا امن کے قیام میں مدد کرنے اوراتفاق رائے کے لیے تہران جیسے علاقائی ہیروز کے کردار کی اہمیت پر زور دیا ۔

ولایت پورٹل:پاکستان کی وزارت خارجہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی رپورٹ کےمطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وسطی ایشیا اور ایران کے دورے سے قبل پیر کو کہا کہ افغانستان کا امن اپنے پڑوسیوں اور پڑوسی ممالک کے لیے ناگزیر ہے، انہوں نے زور دیاکہ اسلام آباد افغانستان کے لیے علاقائی اتفاق رائے چاہتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام میں شراکت داروں کا کردار ایک ترجیح ہے۔
 ایران ، تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان کے دورے کے اپنے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئےقریشی نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں تمام داخلی گروہوں کی شرکت سے ایک قومی اور جامع حکومت وجود میں آئے، انہوں نے افغانستان کے دورے یا کابل کے خفیہ دورے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے  کہاکہ برصغیر کے کچھ میڈیا اداروں نے اشتعال انگیز ماحول پیدا کیا ہے جس کا مقصد پڑوسی ممالک کی جانب سے افغانستان کی مدد کی کوششوں کو تباہ کرنا ہے۔
 قریشی نے مزید کہاکہ افغانستان کے براہ راست پڑوسی ہونے کے ناطے ، ہمیں مخالفین اور امن کے دشمنوں کی کوششوں پر غور کرنا چاہیے کیونکہ تخریب کار اب بھی تخریب کاری کی کوشش کر رہے ہیں،یادرہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پہلے اعلان کیا تھا کہ قریشی افغانستان میں امن کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کے حصے کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران سمیت خطے کے کئی ممالک کا دورہ کریں گے، پاکستان میں سفارتی ذرائع نے بتایا کہ وزیر خارجہ کل علاقائی دوروں پر روانہ ہوں گے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین