Code : 4047 14 Hit

دنیا بھر کی تخریبی کاروائیوں میں آل سعود کا کردار؛سعودی انٹلیجنس سروس کے سابق سربراہ کے اعترافات

سعودی انٹلیجنس سروس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل خطے اور دنیا بھر میں امریکی سازشوں کی خدمت میں سعودی حکومت کے کردار کے بارے میں زیادہ تر حقائق کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے لیکن افغانستان اور لاطینی امریکہ میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ان کے ملک کے کردار کی منفی اور تباہ کن نوعیت کو بے نقاب کردیا۔

ولایت پورٹل:سعودی انٹلیجنس سروس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے کویتی اخبار القبس کو دیے جانے والے اپنے ایک انٹرویو میں  امریکیوں کے کہنے پر سابق سوویت افواج کا مقابلہ کرنے والے مسلح عناصر کے تئیں سعودی حکومت کی حمایت اور افغانستان میں ان کی تعیناتی کی کہانی سنائی کیونکہ امریکہ نے سوویت یونین کے حملے کو اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتا تھا، الفیصل نے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں سوویت فوج کے داخلے کے لیےاپنی مخالفت کا اظہار کیا ۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ نے مخالفت کرنے پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ اس کے بعدجمی کارٹر کی صدارت کے دوران امریکی قومی سلامتی کے مشیر  زیب گیو برزنزکی نے پاکستان کی صورتحال کے بارے میں جاننے کے لئے اسلام آباد کا سفر کیا  اور وہاں سے سعودی عرب بھی گئے جہاں انہوں نے ہمیں بتایا کہ امریکہ افغانستان پر سوویت حملے کے خلاف مجاہدین کی حمایت  کرنے کی کوشش کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہاکہ شاہ خالد (اس وقت کے سعودی عرب کے بادشاہ) نے برزنزکی کو آگاہ کیا تھا کہ اس سلسلے میں ریاض اور اسلام آباد کے مابین ایک معاہدہ ہوا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ یہ تعاون سہ فریقی اور تین اصولوں پر مبنی ہوگا، ان تین اصولوں میں سے ایک یہ تھا کہ حمایت کو سختی سے خفیہ رکھا جانا چاہئے تاکہ روس  کو پاکستان میں مسلح عناصر کا پیچھا کرنے کا بہانہ نہ مل سکے۔
سعودی شہزادے نے سعودی عرب کی جانب سےدنیا بھر میں رضاکاروں ، ڈاکٹروں ، اساتذہ ، تبلیغی اور کچھ ماہرین بھیجنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب عبداللہ عزام اور اسامہ بن لادن کو رضاکاروں کو اکٹھا کرنے کے لئے ایک تنظیم کی ضرورت کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنے نظریات کو استعمال کی تیاری شروع کردی ، القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری بھی  بعد میں ان میں شامل ہوئے۔
انھوں القاعدہ اور طالبان کی بنیاد دالنے میں اسامہ بن لادن کو ذمہ دارٹھہرانے اور سعودی حکومت کو اس سے بری کرنے کی کوشش کی نیز اس کے لئے عبد اللہ عزام اور ایمن الظواہری کواس کا ذمہ دار ٹھہرایاجبکہ یہ افراد سعودی ، پاکستانی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے مشوروں اور ہدایات پر عمل کرتے تھے۔
اس سلسلہ میں الفیصل نے کہا جہاں تک ہم جانتے ہیں  عرب افغانوں نے صرف معاون کردار ادا کیا، ہم نے افغان مجاہدین کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ہم ان کے لیے افراد نہیں بھیجیں گے بلکہ انہیں سامان ، گولہ بارود ، کھانا اور دوائیں بھیجیں گے،اگر ہمارے افراد کسی فوجی کاروائی میں شریک بھی ہوں گے تو ایک حد تک،اگرچہ انھوں نے یہاں پر یہ کہا ہے لیکن آگے چل کر انہوں نے افغانستان کے اندر سابق سوویت یونین کے خلاف کارروائیوں میں عرب نوجوانوں کو حصہ لینے کی ترغیب دینے میں امریکی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ امریکہ نے اس طرح کی کارروائی کی حوصلہ افزائی کی  لیکن وہاں ایک عوامی فضا موجود تھی جس میں یہ سوچ تھی ہمیں افغانوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنا چاہیے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین