Code : 1214 140 Hit

آل سعود کے ہاتھوں بے گناہ شیعوں کے قتل عام کے خلاف الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور کا مذمتی بیان

سعودی حکومت اپنے استعماری آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے اسلام کی بدنامی و بربادی کے جو در پردہ اقدام کررہی ہے ان میں ایک طرف سچے اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانا ہے تو دوسری طرف امن و امان کے گہوارہ ملکوں میں بے گناہ انسانوں پر دہشتگردانہ حملے جو وقتاً فوقتاً پوری دنیا میں انجام پارہے ہیں جیسے ابھی کچھ دن پہلے ہمارے ملک کے فوجیوں کودہشتگردانہ حملہ کا نشانہ بنایا جانا ایران میں دہشت گردانہ حملہ کرایا جانا خود پاکستان کی ہزارہ برادری کے نہھتے معصوموں کو نشانہ بنایا جانا .اس طرح کےسارے اقدامات کے پیچھے صرف اور صرف اسلام دشمنی کا جذبہ کارفرما ہے جو اس پاکیزہ دین کی امن پسندی کی بنا پر اس کی طرف بڑھتے ہؤے رجہانات سے گھبراہٹ کا نتیجہ ہے۔وعدہ الہی برحق ہے عنقریب ظالموں کو معلوم ہوجائے کہ انہیں کس طرح کے دردناک عذاب میں کروٹ کروٹ مبتلا ہونا پڑے گا۔

ولایت پورٹل: آل سعود نے حجاز کی شیعہ اقلیت پر مظالم کے پہاڑ توڑتے ہوئے کل 37 بے گناہ مظلوم شیعوں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا ہے کہ جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ محمد(ص) کی آل پاک سے محبت کرتے تھے۔آج اس ملک میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بہانہ بنا کر شیعہ نسل کشی کردی جاتی ہے اور ریزہ خور عالمی میڈیا ایسے اظہار کرتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو چنانچہ اس واقعہ کو لیکر پوری دنیا کے حق پسند اور اعتدال پسند مسلمانوں کے درمیان آل سعود کے خلاف سخت غصہ پایا جاتا ہے اسی سلسلہ میں سیتاپور کے الاسوہ فاؤنڈیشن نے بھی اپنا مذمتی بیان جاری کیا ہے جس کا متن ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
                                                                                          بسم الله الرحمن الرحيم
سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون
انتہائی غم و الم کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعہ خبر ملی کہ ایک بار پھر نسل یزید نے اپنے ناجائز ابآء و اجداد کے ناپاک خون کا اثر دکھاتے ہؤے 37 بے گناہ شیعہ مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کردیا جن میں علماء ودانشوروں کے ساتھ ساتھ ایک 15 سال کا کمسن بچہ بھی شامل تھا ابھی کچھ دن پہلے ایک کمسن نونہال کو صرف اس کی والدہ کے ذریعہ صلوات پڑھنے کے جرم میں ایک سعودی وہابی درندہ نے دھار دار شیشہ سے ذبح کر دیا تھا۔
آج کی نام نہاد مہذب دنیا میں کوئی نہیں جو ان مظلوم بے گناہوں کے حق میں آواز اٹھائے  آج  حکومت و اقتدار کے حریص فرعون صفت افراد اسلام کے نام پر مولائے کائنات کے چاہنے والوں کا خون بہاکر  تاریخ کے اس دور کی یاد دلا رہے ہیں جب بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم حکمراں صرف حضرت علی علیہ السلام کے نام سے وابستگی کی بناپر ہی بے گناہوں کا خون بہا دیا کرتے تھے نسل بنی امیہ  اور بنی عباس کے یہ ناجایز پلّے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ آج انکے ناپاک آباء و اجداد کا نام و نشان بھی نہیں ہے اور علی(ع) و اولاد علی(ع) سے لیکر ان کے چاہنے والوں کے ایک ایک قطرہ خون کی یادگار موجود ہے۔بے گناہوں کا خون رنگ لائے گا اور عنقریب علی(ع)کا وارث ایک ایک قطرہ خون کا حساب لے گا  موجودہ سال حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے چودہ سو سال پورے ہونے کا سال ہے  اور مولا نے اپنے چاہنے والوں کو بشارت دی ہے کہ قیامت تک  ہماری حمایت کا دم بھرنے والے ہمارے ساتھ جہاد و شہادت میں شریک شمار ہوں گےخوشا بحال کہ ان سر فروشوں نے اپنی جان کے نذرانے کو علی (ع)کی شہادت سے ملا کر اسلام دشمن طاقتوں کو بے نقاب کردیا:’’وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوافِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًابَلْ أَحْيَاءٌعِندَرَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‘‘۔(آل عمران169)۔
 سعودی حکومت اپنے استعماری آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے اسلام کی بدنامی و بربادی کے جو در پردہ اقدام کررہی ہے ان میں ایک طرف سچے اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانا ہے تو دوسری طرف امن و امان کے گہوارہ ملکوں میں بے گناہ انسانوں پر دہشتگردانہ حملے جو وقتاً فوقتاً پوری دنیا میں انجام پارہے ہیں جیسے ابھی کچھ دن پہلے ہمارے ملک کے فوجیوں کودہشتگردانہ حملہ کا نشانہ بنایا جانا ایران میں دہشت گردانہ حملہ کرایا جانا خود پاکستان کی ہزارہ برادری کے نہھتے معصوموں کو نشانہ بنایا جانا اور آخر میں ہمسایہ ملک سری لنکا میں ہوٹلوں اور چرچوں پر حملہ کرکے اسلام کے نام کو بدنام کرنا۔
اس طرح کےسارے اقدامات کے پیچھے صرف اور صرف اسلام دشمنی کا جذبہ  کارفرما ہے جو اس پاکیزہ دین کی  امن پسندی کی بنا پر اس کی طرف بڑھتے ہؤے رجہانات سے گھبراہٹ کا نتیجہ ہے۔وعدہ الہی برحق ہے عنقریب ظالموں کو معلوم ہوجائے کہ انہیں کس طرح کے دردناک عذاب میں کروٹ کروٹ مبتلا ہونا پڑے گا۔
خداوندا ظالموں کے ان ظالمانہ  اقدامات کو انکی تباہی کا سامان قرار دے اور دنیا کے تمام امن پسند  افراد  چاہے وہ جس ملک و ملت کے ہوں انکے  عزم و حوصلہ میں اضافہ فرما!
خدایا امن کے علمبردار وارث علی (ع)کو بھیج دے تاکہ ایک ایک ظالم کو اس کے ظلم کا مزہ چکھایا جاسکے۔
بارالہا! اس سال شہادت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے چودہ سو سال پورے پو رہے ہیں ہمیں اپنے مولا کی سیرت پر چلنے اور انہیں کی راہ پر جینے اور شہید ہونے کی توفیق عطا فرما!


                                                                      سید حمید الحسن زیدی
                                                                           الاسوہ فاؤنڈیشن
                                                                                  سیتاپور


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम