Code : 4084 10 Hit

ریاض کے نزدیک سعودی خفیہ جوہری سائٹ کے خدشات:نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ

امریکی انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق ، سعودی عرب نے ریاض کے قریب ایک مشکوک ڈھانچہ تعمیر کیا ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ سعودی خفیہ جوہری مقامات میں سے ایک ہوسکتا ہے۔

ولایت پورٹل:وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سےبیجنگ اور ریاض کے جوہری تعاون اور سعودی عرب میں پیلے کیک کی تنصیبات کے محل وقوع کے انکشاف کے انکشاف کے بعد  نیو یارک ٹائمز نے امریکی جوہری خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے  سعودی جوہری پروگرام کے متعلق ایک نئی رپورٹ شائع کی ہے جس میں آیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں جوہری ایندھن کی تیاری کے لئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر مبنی سعودی عرب کی کوششوں کی جانچ کررہی ہیں، وہ انفراسٹرکچر جو سعودی عرب کو جوہری ہتھیاروں کی تعمیر کے راستے پر لا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حالیہ ہفتوں میں جوہری ایندھن پیدا کرنے کے لئے درکار صنعتی صلاحیت کی تعمیر کے لئے چین کے تعاون سے سعودی عرب کے اندر جاری کوششوں پر خفیہ تجزیہ جاری کیا ہے، اس تجزیے نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ سعودی عرب اور چین کے مابین خام یورینیم پر عملدرآمد کے لئے خفیہ کوششیں ہوسکتی ہیں جسے بعد میں ایٹم بموں کے ایندھن تک پہنچایا جاسکے۔
امریکی خفیہ ایجنسیوں کی سعودی دارالحکومت کے قریب ایک ڈھانچے کی تکمیل کے بارے میں ایک رپورٹ ، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ سعودی جوہری کور کے خفیہ مقامات میں سے ایک ہوسکتی ہے، نیویارک ٹائمز نے لکھا ہےکہ  اس رپورٹ کے ایک حصے  میں امریکی خفیہ ایجنسیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب واقع ایک علاقے میں شمسی پینل کی تیاری کی تنصیبات کے قریب ایک ایسے ڈھانچے کی نشاندہی کی ہے جو ابھی مکمل ہوا ہے جس کے بارے میں کچھ امریکی حکومتی تجزیہ کاروں اور حکومت سے باہر کے ماہرین کو شبہ ہے کہ یہ ڈھانچہ سعودیوں کے خفیہ جوہری مقامات  میں سے ایک  ہوسکتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین