Code : 1530 31 Hit

عریانیت اور منشیات میں کون زیادہ خطرناک؟

کسی بھی قوم کی موجودیت اور خود ارادیت اس کی تہذیب کا پتہ دیتی ہے، ہر ایک قوم کی تہذیب اپنی تاریخی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ کسی تہذیب اور اس کی دلدادہ قوم میں جدائی ایک ایسی وبا ہے جو جدید سامراجیت کی دین ہے جس کے سبب بہت سی اقوام کو ان کی دیرینہ روایات سے جدا کردیا گیا چونکہ انہیں معلوم ہے کہ جب تک ہم کسی قوم کی تہذیب کو مسخ کرکے ان کے سامنے پیش نہیں کریں گے جب تک وہ اپنے گلے میں ہماری غلامی کا طوق پہننے کے لئے تیار ہی نہیں ہونگے لہذا اس کا آسان راستہ یہی ہے کہ پہلے کسی قوم کے ذہن سے اس کے ماضی کی عظمتوں کے فلک بوس محلوں کو مسمار کر انہیں ان کی تاریخ سے بے بہرہ بناؤ تو پھر ان سے جو بھی مطالبہ کیا جائے وہ دست بستہ و رسن بستہ ہماری خدمت کے لئے تیار ہونگے اور بغیر کسی مزاحمت اور رد عمل کے ہماری غلامی کرنے کو تیار ہوجائیں گے۔

ولایت پورٹل: سچ میں اگر ہم بے پردگی اور منشیات کا آپس میں موازنہ و مقائسہ کریں کہ ان میں سے کون سی چیز دوسرے سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے؟ تو ہم ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر منشیات کا استعمال انسان کے جسم و روح کو نقصان پہونچاتا ہے تو بے پردگی و عریانیت سے بھی جہاں جسمانی نقصان ہوسکتا ہے اس سے کہیں زیادہ روحانی اذیت خواتین کو اٹھانا پڑتی ہیں۔ اگر منشیات کے استعمال سے ارادے کمزور اور ہمتیں سست پڑجاتی ہیں تو خواتین کی بے پردگی اور نمائش بھی کچھ اسی طرح سے ہے۔
اگر منشیات کے استعمال سے مالی و اقتصادی نقصان ہوتا ہے تو بے پردگی سے بھی بہت بڑا اقتصادی نقصان ہوتا ہے اگر منشیات کے استعمال معاشرے میں جرائیم و فساد کی راہ ہموار کرتا ہے تو  عورت کی بے پردگی و عریانیت بھی بہت سے جرائیم و فساد کا پیش خیمہ من جملہ گھر میں منشیات لانے اور اسے استعمال کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ بہر حال جس طرح منشیات ایک سماجی و اجتماعی گناہ ہے ویسے ہی بے پردگی بھی سماجی و اجتماعی گناہ ہے۔لیکن ان دونوں کے درمیان دو بنیادی فرق یہ ہیں:
1۔منشیات کا استعمال سماج،خاندان،گھر والوں، اعزاء و اقارب کی نظر میں جرم اور اقدار کے منافی  ایک عمل سمجھا جاتا ہے لیکن بے پردگی، خود کی نمائش خواتین کے لئے بسا اوقات خود خاندان والوں کی نظروں میں ایک ہنر اور ویلیوں شمار کیا جاتا ہے اور بے پردہ خاتون اس وجہ سے اپنی بے پردگی کو گناہ تصور نہیں کرتی۔
2۔دوسرا اہم اور بنیادی فرق یہ ہے کہ سماج کے اکثر لوگ منشیات کے مقابل اپنے کو محفوظ رکھنے کی مکمل کوشش کرتے ہیں یعنی اگر منشیات کسی جگہ آسانی کے ساتھ دستیاب ہوں اور کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تب بھی اکثر لوگ اس کی طرف مطلق رغبت نہیں رکھتے۔ لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ اگر کسی معاشرہ میں بے پردگی اور عریانیت حد سے زیادہ بڑھ جائے تو کیا لوگوں کا ان کے مقابل بھی یہی رد عمل ہوگا؟ آپ خود سوچ کر جواب دیجئے کہ کیا ممکن ہے اگر سڑک پر کوئی نیم عریاں خاتون گذرے اور مرد اپنے اندر کوئی تزلزل محسوس نہ کریں؟
کون سا نفس مطمئن ایسا ہے جو ہوا و ہوس اور شہوت کی شدید آندھی کے زد پر جس کے قدم نہ ڈگمگائیں؟بس یہ اسی وقت ممکن ہے کہ انسان اللہ کا فرستادہ کوئی نبی یا امام ہو جسے اللہ اپنی برھان دکھلائے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے:’’ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ، وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَن رَّأَىٰ بُرْهَانَ رَبِّهِ‘‘۔(سورہ یوسف:24) اس عورت (زلیخا) نے گناہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اور وہ مرد (یوسف) بھی اس کا ارادہ کرتا اگر اپنے پروردگار کا برہان نہ دیکھ لیتا۔
بے پردگی اور عریانیت تہذیبی جنگ کا ایک جلوہ اور جوانوں کے اپنے دین، تہذیب،ثقافت اور روایات سے دور ہونے کا سبب ہے۔
کسی بھی قوم کی موجودیت اور خود ارادیت اس کی تہذیب کا پتہ دیتی ہے، ہر ایک قوم کی تہذیب اپنی تاریخی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ کسی تہذیب اور اس کی دلدادہ قوم میں جدائی ایک ایسی وبا ہے جو جدید سامراجیت کی دین ہے جس کے سبب بہت سی اقوام کو ان کی دیرینہ روایات سے جدا کردیا گیا چونکہ انہیں معلوم ہے کہ جب تک ہم کسی قوم کی تہذیب کو مسخ کرکے ان کے سامنے پیش نہیں کریں گے جب تک وہ اپنے گلے میں ہماری غلامی کا طوق پہننے کے لئے تیار ہی نہیں ہونگے لہذا اس کا آسان راستہ یہی ہے کہ پہلے کسی قوم کے ذہن سے اس کے ماضی کی عظمتوں کے فلک بوس محلوں کو مسمار کر انہیں ان کی تاریخ سے بے بہرہ بناؤ تو پھر ان سے جو بھی مطالبہ کیا جائے وہ دست بستہ و رسن بستہ ہماری خدمت کے  لئے تیار ہونگے اور بغیر کسی مزاحمت اور رد عمل کے ہماری غلامی کرنے کو تیار ہوجائیں گے۔
بے پردگی بے عقلی کے مترادف
جو افراد چاہے وہ کسی بھی جذبے اور کسی بھی طرح بے پردہ رہتے ہوں یا عریانیت کی حمایت کرتے ہیں ان کے پاس اس عمل کے صحیح ہونے کی کوئی قانع کنندہ دلیل و برہان نہیں ہوتی۔ اگر ایسی خواتین سے یہ سوال کیا جائے کیوں آپ نے ایسا لباس پہنا؟ کیوں آپ نے پردہ نہیں کیا؟ کیوں آپ اپنی نمائش کرتی پھرتی ہو تو ان کا عام طور پر سب سے بڑا جواب یہ ہوتا ہے:  یہ ہمیں پسند ہے؟ ہمیں ایسا کرنا اچھا لگتا ہے؟ ہم جوان ہیں اور یہ فیشن کا دور ہے؟ ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں ہم چاہے جو کریں آپ کو کیا؟
اور تھوڑی سی بھی عقل و منطق رکھنے والا پہلے ہی جواب سے سمجھ جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے کام کی کوئی پختہ دلیل نہیں ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम