Code : 2236 172 Hit

بچوں کی تربیت اور والدین کا متفقہ تربیتی پروگرام

ماں اور باپ دونوں کے عمل میں تعارض و تضاد بچے کی شخصیت کے لئے زہر ہلاہل ہے۔ اسے اس گھر کی اس کیفیت میں کبھی امن و امان کا احساس نہیں ہوسکتا چونکہ وہ دونوں صورتوں میں(یعنی اگر ماں کی بات مانتا ہے تو باپ ناراض ہوتا ہے اور اگر باپ کا کہنا مانتا ہے تو ماں کی ناراضگی سے روبرو ہونا پڑتا ہے) وہ اپنے کو ایک شکست خوردہ سپاہی سمجھتا ہے اور یہی مسئلہ اس کے مسلسل اضطراب و افسردگی کا سبب بن جاتا ہے۔

ولایت پورٹل: اگر آپ اپنے شریک حیات کے ساتھ اچھے سے رہتے ہیں اور آپ کی زندگی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے لیکن جیسے ہی آپ کے یہاں پہلے بچے کی ولادت ہو اور وہ تھوڑا بڑا ہونے لگے تو اس کی بہتر تربیت کرنے کے لئے آپ کو مل بیٹھ کر اس کی تربیت کا مکمل پروگرام اور خاکہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے لہذا آپ ایک کاغذ اٹھائیے اور اس پر وہ سب کچھ لکھئے جو آپ کو اس کی تربیت کے مد نظر انجام دینا ہے۔قارئین کی سہولت کے لئے کچھ بنیادی مسائل کہ جن پر میاں اور بیوی کا اتفاق ضروری ہے ذیل میں بیان کئے جارہے ہیں:
1۔ اگر بچے کی کسی غلطی پر ماں ناراض ہو اور باپ ہنسنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لشکر کا ایک کمانڈر حملہ کرنے کا حکم دے رہا ہے اور دوسرا عقب نشینی کا ۔اس کیفیت میں معصوم بچہ کبھی اس بات کو سمجھ ہی نہیں پائے گا کہ کون سا کام اچھا ہے اور کون سا برا؟ کس کام کو کرنا چاہیئے اور کس کو چھوڑنا؟
ماں اور باپ دونوں کے  عمل میں یہ تعارض و تضاد بچے کی شخصیت کے لئے زہر ہلاہل ہے۔ اسے اس گھر کی اس کیفیت میں کبھی امن و امان کا احساس نہیں ہوسکتا چونکہ وہ دونوں صورتوں میں(یعنی اگر ماں کی بات مانتا ہے تو باپ ناراض ہوتا ہے اور اگر باپ کا کہنا مانتا ہے تو ماں کی ناراضگی سے روبرو ہونا پڑتا ہے) وہ اپنے کو ایک شکست خوردہ سپاہی  سمجھتا ہے اور یہی مسئلہ اس کے مسلسل اضطراب و افسردگی کا سبب بن جاتا ہے۔
2۔جب باپ کسی وجہ سے اپنے بچے کو باہر دوستوں کے ساتھ کھیلنے سے روکے اور ماں باپ کی غیر موجودگی میں اسے دوستوں کے ساتھ باہر جاکر کھیلنے کی اجازت دے دے۔ تو اس عمل سے بچہ یہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ اس گھر میں نہ باپ کا قانون کوئی اہمیت رکھتا ہے اور ماں کا فرمان!
3۔کبھی کبھی والدین مصلحت کے پیش نظر اپنے بچوں کے لئے کچھ چیزوں کو ریڈ لائین قرار دیتے ہیں اور ان کے انجام دینے سے انہیں منع کرتے ہیں لیکن بچے بھی ہوشیار اور ذہین سیاستمدار ہوتے ہیں وہ بھی اپنے والدین کے سلیقے اور انداز کے اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پابندیوں کو ختم کرلیتے ہیں۔
4۔ آپ حضرات اس بات پر بھی توجہ دیں اور مجھے امید ہے کہ آپ اسے ضرور قبول کریں گے کہ اولاد کی تربیت کے سلسلہ میں والدین کو نظریاتی اور عملیاتی طور پر ایک دوسرے سے ہماہنگ اور متحد ہونے کی ضرورت ہے چونکہ والدین کے اختلاف کے سبب بچوں کو جن خطرات کا سامنا ہوتا ہے ان کا نقصان اس سے بھی کہیں زیادہ ہے کہ جب والدین میں سے کوئی ایک غلط ڈھنگ سے تربیت کررہا ہو۔
لہذا اپنے بچوں اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کی تربیت کے مسائل کو ہلکے میں نہ لیجئے بلکہ اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پہلے کتابیں پڑھیئے، تجربہ کار لوگوں کے تجربات سے استفادہ کیجئے، آپس میں گفتگو اور بات چیت کے ذریعہ تربیت کے متفقہ اصولوں پر جمع ہوجایئے تب جاکر یہ مرحلہ آسان ہوسکتا ہے۔
5۔ بیوی اور شوہر کے درمیان بہت سی چیزوں میں نااتفاقی اور اختلاف پایا جاسکتا ہے اور یہ ایک طبیعی چیز ہے خدارا! اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیے بلکہ اس اختلاف کو سربستہ راز کی صورت ہی رہنے دیجئے اور کبھی بچوں کے سامنے ایسے مسائل پر گفتگو نہ کیجئے جن میں آپ کے نظریات ایک دوسرے سے نہیں ملتے اور اگر کوئی جدید اختلاف پیش آجائے تو اسے آرام سے حل کرلیجئے اس طرح کہ بچے کو کانوں کان خبر تک نہ چلے۔
6۔ہمارا آخری نقطہ ان لوگوں کے لئے ہے جو جوائینٹ فیملی میں رہتے ہیں اور والدین کے ساتھ اگر بچوں کے دادا دادی بھی رہتے ہوں تو ان سے بھی یہ گذارش کی جاتی ہے کہ وہ بچوں کی تربیت میں والدین کے متفقہ اصولوں کی رعایت کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں۔ اگرچہ یہ کام بہت سخت ہے ۔لیکن اگر بچے کے والدین متفقہ اصول تربیت تک پہونچ چکے ہیں تو وہ گھر کے دوسرے افراد کو بھی اپنے نظریات کا قائل بنا سکتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम