Code : 4239 27 Hit

حضرت عباس (ع) کی ممتاز خصوصیات

اس مقام پر اس نکتہ کی طرف توجہ لازمی ہے کہ حضرت عباس(ع) کا دیگر شہداء پر امتیاز یہ ہے کہ اپنے امام کی جتنی معرفت آپ کو تھی اس سے بالا تر و افضل معرفت کسی اور کو نہیں تھی ۔ قرآن و اہل بیت(ع) کی تعلیمات کی روشنی میں کسی بھی انسان کے اعمال کا وزن اس کی معرفت کی میزان میں تولا جاتا ہے جتنی کسی کی معرفت بلند مرتبہ ہوتی ہے اس کا عمل بھی اتنا ہی وزنی اور سنگین ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل: کسی ایسی ذات اور شخصیت کے بارے میں گفتگو کرنا کہ جو وفاداری کا اسواہ، شجاعت کی معراج اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہو بہت سخت و دشوار ہے ۔ ہم آج اس شخصیت کے بارے میں بات کرنا چاہیں گے کہ جس نے دنیا کے سب سے عظیم باپ اور مہذب ماں کے آغوش میں تربیت پائی ہو کہ جو ہر مجبور و بے کس کی پناہ گاہ اور ہر امیدوار کی امید کا مرجع ہو اس کی زندگی کے بارے میں گفتگو کرنا بہت سخت کام ہے لہذا ہم اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی زندگی کے چند گوشوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔وہ گوشے جو انہیں دیگر لوگوں حتیٰ حسین بن علی(ع) کے دیگر اصحاب سے ممتاز بناتے ہیں اور ان کے چھوڑے ہوئے نقوش پر چل کر ہم دنیا میں کامیابی اور آخرت میں سعادت سے ہمکنار ہوسکتے ہیں:
۱۔امام وقت کی اطاعت
حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی تربیت معصوم باپ اور نیک خصلت اور صالحہ و حق شناس ماں کے دامن محبت میں ہوئی کہ جن کی عطوفت نے انہیں عبد صالح خدا ، مؤمن ، زندگی کے ہر موڑ پر فرض شناس بنا دیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ آپ کی زندگی میں ایک مرتبہ بھی یہ نہیں ملتا کہ آپ نے اپنے وقت کے امام کی اطاعت نہ کی ہو بلکہ آپ کا ہر لمحہ اطاعت مولا بسر ہوا۔ چنانچہ امام سجاد (ع) آپ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :’’ عباس بن علی(ع) کا خدا کے یہاں اتنا عظیم اور بلند مقام ہے کہ قیامت میں سارے شہداء ان کے اس مرتبہ کو دیکھ کر حسرت کریں گے کہ اے کاش ! انہیں بھی وہ مرتبہ نصیب ہوجاتا ‘‘۔(۱)
پس اس مقام پر اس نکتہ کی طرف توجہ لازمی ہے کہ حضرت عباس(ع) کا دیگر شہداء پر امتیاز یہ ہے کہ اپنے امام کی جتنی معرفت آپ کو تھی اس سے بالا تر و افضل معرفت کسی اور کو  نہیں تھی ۔ قرآن و اہل بیت(ع) کی تعلیمات کی روشنی میں کسی بھی انسان کے اعمال کا وزن اس کی معرفت کی میزان میں تولا جاتا ہے جتنی کسی کی معرفت بلند مرتبہ ہوتی ہے اس کا عمل بھی اتنا ہی وزنی اور سنگین ہوتا ہے۔
۲۔ حضرت عباس(ع) کی دقیق و عمیق بصیرت
اگر ہم حضرت ابوالفضل العباس (ع) کی زندگی کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ آپ(ع) کی شخصیت ہر اعتبار و لحاظ سے فضیلتوں سے مملو ہے۔ آپ علم ، عمل، اخلاق، ایمان میں اپنے وقت کی ایک برجستہ شخصیت تھے اور جیسا کہ آپ کی کنیت’’ ابو الفضل ‘‘ سے ظاہر ہے کہ تمام صفات و کمالات آپ کی ذات میں جمع تھے ۔پس آپ کی دیگر شہداء پر برتری کی ایک وجہ آپ کی وسیع و عمیق بصیرت تھی چنانچہ امام جعفر صادق(ع) ارشاد فرماتے ہیں:’’ ہمارے چچا عباس بن علی(ع) عمیق بصیرت  اور محکم ایمان کے مالک تھے ۔ انہوں نے اپنے بھائی کی رکاب میں رہ کر دشمنوں سے جہاد کیا ۔اپنی ذمہ داری اور الہی امتحان میں کامیاب ہوئے شہادت کا عظیم مرتبہ پایا‘‘۔(۲)
۳۔ حضرت عباس(س) کا ادب
ادب و تہذیب کی رعایت انسان کی معنوی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اس طرح کہ معنویت اور دینی حقائق تک پہونچنے کی پہلی سیڑھی یہی ادب ہے ۔ اگر کوئی ادب کی رعایت نہ کرپائے وہ الہی راستہ پر چلنے کے لائق نہیں بنتا۔ لہذا خدا، رسول خدا(ص) اور آئمہ طاہرین(ع) کے سامنے ادب کی رعایت کرنا سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے چنانچہ حضرت ابو الفضل العباس(ع) کو یہ ادب بدرجہ اتم و کامل حاصل تھا چنانچہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ حضرت ابوالفضل العباس(ع) اپنے بھائی حضرت امام حسین(ع) کی اجازت کے بغیر حضرت کے پاس تک نہیں بیٹھتے تھے اور اگر اجازت پانے کے بعد بیٹھتے بھی تھے تو اس طرح جیسے کوئی حقیر و خاضع غلام اپنے جلیل القدر آقا کے سامنے بیٹھا ہو‘‘۔(۳)
یا ایک دوسری روایت میں یہ جملہ آیا ہے :’’ کانَ کَالعَبدِ الذلیل بَینَ یدَیِ الوَلیِّ الجَلیلِ‘‘۔(۴) عباس(ع) ایک غلام کی مانند امام کے سامنے رہتے تھے ۔
۴۔حضرت عباس(ع) کی شجاعت
شجاعت و دلیری ایک ایسی قوت و طاقت کا نام ہے کہ جو انسان کو  سخت سے سخت امور کی بجالانے کی ہمت دیتی  ہے اور اپنے موصوف کی مدد کرتی ہے تاکہ وہ اپنی پریشانی اور اضطراب پر قابو پاکر غیر متوقع حوادث اور حساس و پیچیدہ مسائل کا سامنا کرتے ہونے نہ گھبرائے ۔ شجاعت ایک ایسی صفت ہے کہ وہ آپ کے دشمن سے آپ کی شأن میں جسارت کرنے کی جرأت کو سلب کرلیتی ہے چنانچہ حضرت عباس(ع) کی شجاعت کے متعلق ملتا ہے کہ دشمن آپ کا چہرہ دیکھ کر لرزہ بر اندام ہوجایا کرتے تھے اور ان پر عجیب خوف طاری ہوجاتا تھا ۔آپ (ع) نے کبھی دشمن کے سامنے ضعف و کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آپ کی آرزو یہ رہتی تھی کہ دین خدا ہر حال میں زندہ رہے ۔چنانچہ خود سرکار وفا حضرت ابوالفضل (ع) ایک بازو قلم ہونے کے بعد فرماتے ہیں:’’ خدا کی قسم ! کیا ہوا جو تم نے میرا داہنا ہاتھ قلم کردیا میں اسی جذبہ سے جنگ کرتا رہوں گا اور اپنی آخری سانس تک دین کا دفاع کروں گا اور اپنے اس امام کی اطاعت کروں گا جو نبی پاک و امین(ص) کا نواسہ ہے‘‘۔(۵)
عباس(ع) کو عباس کیوں کہا جاتا ہے؟
مرحوم علامہ حائری(رح) نقل کرتے ہیں: امیرالمؤمنین(ع) اس سبب انہیں عباس کہتے تھے چونکہ وہ  دشمن کے مقابل ان کی ہیبت، شجاعت ، شوکت اور صلابت سے واقف تھے ۔ دشمن ان کے سامنے کانپنے لگتے تھے اور ان کے چہروں کا رنگ اڑ جاتا تھا وہ ایک ایسے شجاع انسان تھے کہ جنہوں نے شجاعت و بہادری کو اپنے باپ سے ورثہ میں پایا تھا اور ان کے سامنے گمراہوں کی ناگ مٹی میں رگڑ دی جاتی تھی ‘‘۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔بحارالانوار، ج 44 ، ص 298۔
۲۔سید محسن الأمینی، اعیان ­الشیعه، تحقیق: حسن الأمینی، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ج 7، ص 430۔
۳۔محمد محمدی اشتهاردی، پرچمدار نینوا، انتشارات مسجد مقدس جمکران، 1378،  اشاعت 2، ص 43۔
۴۔امیرحسین علیقلی، هفتاد و دو درس زندگی از سیره عملی حضرت ابوالفضل ­العباس، انتشارات عابد، ج 2، ص44۔
۵۔پرچمدار نینوا، ص 173۔
۶۔مرحوم علامه حائری، کتاب معالی السِبطین، ص 176 ۔

تحریر: سجاد ربانی


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین