صدی ڈیل کے پیچھے نسل پرستی کی فکر کارفرما ہے: لبنانی دروزن قبیلہ کے سابق سیاسی رہنما کے دوست

لبنانی دروزن قبیلہ کے سابق سیاسی رہنما کمال جنبلاط کے دوستوں نے پیر کی شب بیروت میں ایک بیان جاری کیاجس میں آیا ہے کہ صدی ڈیل کا محرک نسل پرستی ہے۔

ولایت پورٹل:لبنانی دروزن قبیلہ کے سابق سیاسی رہنما کمال جنبلاط کے دوستوں نے پیر کی شب بیروت میں ایک بیان جاری کیاجس میں آیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اسرائیلی نسل پرستانہ حکومت کی بنیادوں کو مستحکم کرنا اور اس کی جغرافیائی توسیع جس کے تحت فلسطین میں مغربی کنارے کے تمام علاقوں ، اردن میں غور کا علاقہ ، شام میں جولان کی پہاڑیوں اور لبنان کے شعبہ فارموں پر قبضہ کرناشامل ہے۔
یادرہے کہ کمال جنبلاط وہ شخص ہیں جنہوں نے 1952 میں لبنان میں بدعنوانیوں کے خلاف قیام کیا ،1958میں غیر ملکی طاقتوں کے خلاف عوامی تحریک میں حصہ لیا اور اس کے بعدفلسطین کی تحریک آزادی میں شامل ہوئے۔
یہ 1977 میں لبنان کی آزادی کی تحریک شروع کرنے والے افراد میں سے ایک  تھے جو مشرقی بیروت میں واقع عالیہ علاقہ میں اپنے گھر جاتے ہوئے دیگر تین افراد سے ساتھ قتل کردیے گئے۔
کمال جنبلاط کے دوستوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں مزید آیا ہے کہ  صدی ڈیل میں فلسطینیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ  مختلف شہروں بٹے ہوئے کچھ علاقوں کو لے لیں اور وہاں اپنی الگ حکومت قائم کرلیں جوفلسطینی خود مختاری کے منافی ہے۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ اس منصوبہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے  وطن واپسی کے حق کو توپائمال کیا ہی گیا ہے ساتھ میں باقی فلسطینیوں سے بھی تقاضہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے وطن کو چھوڑ کر اردن ،شام اور لبنان چلے جائیں۔
بیان میں صدی ڈیل کو انتخابی اہداف سے نمٹنے کےلیے ایک وسیلہ قرار دیا گیا ہے جس کا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی استحصال کررہے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین