کینیڈا انسانی حقوق کی پاسداری میں سیاہ ریکارڈ

حالیہ مہینوں میں کینیڈا میں اجتماعی قبروں کی دریافت مقامی لوگوں کے معاملات میں اس ملک کے سیاہ ریکارڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

ولایت پورٹل:حالیہ مہینوں میں کینیڈا کے مقامی اسکولوں میں کئی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جس سے اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ پیدا ہوا ہے، گلوبل ٹائمز کے مطابق کینیڈا کی تاریخ میں اس بدنما داغ کے سامنےکینیڈین حکومت نے ایماندارانہ رویہ نہیں دکھایا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا دعویٰ ہے کہ کینیڈا کے سچ اور مصالحتی کمیشن نے 2008 سے 2015 تک مقامی لوگوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک سے نمٹنے کے لیے کام کیا، تاہم اس بارے میں کافی شکوک و شبہات موجود ہیں کہ آیا کینیڈا اس کا جائزہ لے کر کوئی منصفانہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے اور اپنی  وضاحت  کو ثابت کر سکتا ہے۔
یادرہے کہ  کینیڈین حکومت اور کیتھولک چرچ نے ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہےاور خود کو بری کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ زیادہ تر بورڈننگ اسکولوں کو مکمل طور پر تلاش نہیں کیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ  کیا کینیڈا میں دیانتداری اور سیاسی جرات ہے کہ وہ مکمل تحقیقات کر سکے؟ چائنا انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینئر فیلوینگ زیو کا کہنا ہے کہ   کینیڈا جیسے ممالک کی منطق یہ ہےکہ  ہم دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں گے لیکن ہمارے اندرونی معاملات کا دوسرے ممالک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ی
ادرہے کہ  1978 میں بند ہونے والے برٹش کولمبیا کے کملوپس بورڈننگ اسکول میں دریافت ہونے والے 215 بچوں کی باقیات میں سے کچھ کی عمر صرف تین سال تھی کہ وہ مر گئےجبکہ کینیڈا نے اس سلسلے میں علامتی  افسوس کیا، انہوں نے تمام وفاقی عمارتوں میں جھنڈے جھکانے کا حکم دیاجبکہ اس طرح کے اقدامات میں سے کوئی بھی مسئلے کو حل کرنے میں بنیادی مدد نہیں کر سکتا۔
قابل ذکر ہے کہ  کینیڈا کے سیاست دانوں کی ٹویٹس جیسے "میرا دل ٹوٹ گیا" کا ان مظلوم بچوں پر کوئی منصفانہ اثر نہیں ہو سکتا۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین