Code : 4053 7 Hit

افغانستان میں برطانوی فوج کے مظالم کا انکشاف

افغانستان میں برطانوی فوج کی جانب سے غیر مسلح افراد کو دانستہ طور پر قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ولایت پورٹل:ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق دو ہزار گیارہ میں برطانیہ کی اسپیشل فورسز نے افغانستان میں عام شہریوں کو غیر قانونی طور پر قتل کرنے کی دانستہ پالیسی اپنائی اور حکومت برطانیہ نے اس قسم کی دستاویزات کو برطانوی عدالت سے پوشیدہ رکھا،دو ہزار گیارہ میں برطانیہ کی اسپیشل فورسز کے دو سینئر افسروں نے ڈور سیٹ میں خفیہ ملاقات کی، گفتگو کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ برطانیہ کے اعلیٰ تربیت یافتہ بعض فوجیوں نے غیر مسلح افراد کو غیر قانونی طور پر قتل کرنے کی دانستہ پالیسی اپنائی ہے۔
اس گفتگو کے بعد ایک نوٹ لکھ کر اعلیٰ افسران کو بھیجا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس مجرمانہ رویئے کی روک تھام کے لیے بھرپور تحقیقات کی ضرورت ہے، اب یہ دستاویز ہائی کورٹ میں زیر سماعت ایک کیس کے سلسلے میں وکلا کی فرم ’’ لی ڈے‘‘ Leigh Day کو جاری کی گئی ہے،ہائی کورٹ اس بارے میں رولنگ دے گی کہ اسپیشل فورسز کے اہل کاروں پر ماورائے قانون قتل کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات کی گئی یا نہیں، یہ کیس ایک شخص سیف اللہ عدالت میں لے گیا ہے جس کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان کے چار افراد 16 فروری 2011 کو قتل کر دئے گئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے پرچم تلے کئی مغربی ممالک افغانستان کو طالبان کے چنگل سے چھڑانے کے بہانے اس ملک میں داخل ہوئے اور اپنے تیارکردہ دہشتگرد گروہ طالبان کو بے دخل کر کے خود اس ملک پر قابض ہو گئے  جس کے بعد عام شہریوں کا قتل عام شروع ہوگیا ،افغان شہرویوں کو ایک طرف طالبان کے حملوں کا شکار ہونا پڑتا ہے اور دوسری طرف امریکی اتحاد ان کے خون کی ہولی کھیل رہا ہے،اوپر سے اب اس سے بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ امریکہ نے اپنی مدد کے لیے داعشی درندوں کو بھی اس ملک میں بلا لیا ہے  اور وہ بھی اس کی ایما پر بے گناہ عوام کا قتل عام کر رہے ہیں۔

سحر

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین