یوکرین اور فلسطین کے سلسلہ میں برطانیہ کا دوہرا معیار

لندن میں فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے نے ایک برطانوی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یوکرین اور فلسطین پر قبضے کے حوالے سے اس ملک کے دوہرے موقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر روس اور صیہونی  دونوں جارح  ہیں تو لندن حکومت کا دونوں کے بارے میں رویہ  مختلف کیوں ہے؟

ولایت پورٹل:لندن میں فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے حسام زملط نے اسکائی نیوز چینل کے اینکر کے فلسطینی مزاحمتی فورسز کے ہاتھوں صیہونی قابض فوج کی ہلاکتوں کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کہا اگر روس اور صیہونی  دونوں جارح  ہیں تو لندن حکومت کا دونوں کے بارے میں رویہ  مختلف کیوں ہے؟
 انہوں نے صیہونیوں کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر اسرائیل کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو وہ اس تنازعہ کا مقدمہ بین الاقوامی فوجداری عدالت یا بین الاقوامی عدالت انصاف کے پاس بھیجنے کی مخالفت کیوں کرتا ہے جو اعلیٰ ترین بین الاقوامی عدالتی ادارے ہیں؟ وہ امریکہ اور انگلینڈ کو ہمارا راستہ روکنے کے لیے کیوں استعمال کرتا ہے؟ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس نے روزانہ کی بنیاد پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، وہ جانتا ہے کہ گزشتہ 75 سالوں میں اس نے ایک قوم پر بدترین جبر کیا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کا ہر عمل اجتماعی سزا کی مثال ہے، وہ جانتا ہے کہ برطانوی ججوں سمیت دنیا کا ہر جج انہیں جنگی جرائم کو دہرانے کا مجرم ٹھہرائے گا۔
فلسطینی سفیر نے امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ مقبوضہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی امید کم ہوئی ہے؛ انہوں نے صحیح کہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور انگلینڈ غلط کام کر رہے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ قانون پر مبنی نظام کے پرچم بردار ہونے کا دعویٰ کرنے والے یہ دونوں ممالک قوانین کے نفاذ میں اپنے دوست اور دشمن میں امتیاز کیوں کرتے ہیں۔
 زملط نے مزید کہا کہ اس پروگرام میں شرکت کرنے سے پہلے میں یوکرین کے بارے میں "یوکرینی مزاحمت" کے عنوان سے آپ کے چینل پر آنے والی خبر کی سرخی پڑھ رہا تھا کہ روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے اور وہاں قبضہ کر لیا ہے جبکہ برطانیہ کے مطابق اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے تو دونوں کے درمیان فرق کیوں ہے؟
 اس سوال پر کہ عالمی برادری کو اسرائیل کے خلاف کیا اقدام کرنا چاہیے؟ فلسطینی سفیر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکہ یوکرین کی مزاحمتی قوتوں کو اسلحے سے لیس کرے گا لیکن جب ہماری باری آئے گی تو غاصب اسرائیلیوں کو مسلح کرے گا، زملط نے یہ کہتے ہوئے کہ اسرائیل ایک جابرانہ حکومت ہے جو 75 سال سے فلسطینیوں کے خلاف جبر کر رہی ہے، واضح کیا کہ فلسطین میں غاصبانہ قبضہ ختم ہونا چاہیے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین