حضرت امام علی نقی علیہ السلام کا مختصر تعارف

امام علی نقی (ع) نے اس خاندان میں پرورش پائی جو لوگو ں کے درمیان ممتاز حیثیت کا حامل تھا ان کا سلوک منور و روشن اور ان کے آداب بلند و بالا تھے، ان کا چھوٹا بڑے کی عزت اور بڑا چھوٹے کا احترام کرتا تھا ،مورخین کے نقل کے مطابق اس خاندان کے آداب یہ ہیں: حضرت امام حسین(ع) اپنے بھائی امام حسن(ع) کی جلالت اور تعظیم کی خاطران کے سا منے کلام نہیں کر تے تھے روایت کی گئی ہے کہ امام زین العابدین سید الساجدین(ع) اپنی تربیت کرنے والیوں کے ساتھ ان کے التماس کرنے کے با وجود کھانا نوش نہیں فرماتے تھے۔

ولایت پورٹل: امام علی نقی (ع) آئمہ ہدیٰ کی دسویں کڑی ہیں، آپ کنوز اسلام اور تقویٰ و ایمان کے ستاروں میں سے ہیں ،آپ(ع) نے طاغوتی عباسی حکمرانوں کے سامنے حق کی آوازبلندکی اور آپ(ع) نے اپنی زندگی کے ایک لمحہ میں بھی ایسی مادیت قبول نہیں کی جس کاحق سے اتصال نہ ہو،آپ (ع) نے ہر چیز میں اللہ کی اطاعت کی نشاندہی کرائی...ہم ذیل میں آپ(ع) کے بارے میں مختصر طورپرکچھ بیان کر رہے ہیں:
آپ کی ولادت باسعادت
اس مولود مبارک سے دنیاروشن ومنور ہوگئی،آپ (ع) مقام بصریا میں پیداہوئے، امام محمد تقی(ع) نے اس مولود مبارک کی ولادت با سعادت پرتمام شرعی آداب ومراسم انجام دیئے،داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور ائمۂ ہدیٰ کی اتباع کرتے ہوئے عقیقہ میں گوسفند ذبح کیا۔
۱۔بصریا وہ دیہات ہے جس کو امام موسیٰ بن جعفر(ع) نے بسایا تھا جو مدینہ سے تین میل دور ہے۔
حضرت (ع) کی ولادت باسعادت  ۲۷ ذی الحجہ  ۲۱۲ ہجری میں ہوئی۔
آپ کا اسم گرامی
حضرت امام محمد تقی (ع) نے تبرکاً آپ کا اسم مبارک اپنے جدبزرگوارامیرالمؤمنین علی (ع)کے نام پر علی رکھا،چونکہ آپ(ع) فصاحت وبلاغت،جہاداور اللہ کی راہ میں مصائب برداشت کرنے میں اُن (امام علی(ع)) کے مشابہ تھے اور آپ(ع) کی کنیت ابوالحسن رکھی،جس طرح آپ(ع) کے کریم القاب مرتضیٰ عالم  اور فقیہ وغیرہ ہیں۔
امام (ع) کی پرورش
امام علی نقی (ع) نے اس خاندان میں پرورش پائی جو لوگو ں کے درمیان ممتاز حیثیت کا حامل تھا ان کا سلوک منور و روشن اور ان کے آداب بلند و بالا تھے، ان کا چھوٹا بڑے کی عزت اور بڑا چھوٹے کا احترام کرتا تھا ،مورخین کے نقل کے مطابق اس خاندان کے آداب یہ ہیں: حضرت امام حسین(ع) اپنے بھائی امام حسن(ع) کی جلالت اور تعظیم کی خاطران کے سا منے کلام نہیں کر تے تھے روایت کی گئی ہے کہ امام زین العابدین سید الساجدین(ع) اپنی تربیت کرنے والیوں کے ساتھ ان کے التماس کرنے کے با وجود کھانا نوش نہیں فرماتے تھے اور ان کو اس بات کے ڈر سے منع کر دیتے تھے کہ کہیں میری نظر اس کھانے پر نہ پڑجا ئے جس پر مجھ سے پہلے ان کی نظر پڑگئی ہو تو اس طرح اُن کے نافرمان قرارپا ئیں گے ۔بھلا دنیا میں وہ کونسا ادب ان آداب کے مشابہ ہو سکتا ہے جو انبیاء کے آداب ان کے بلند و بالا سلوک اور ان کے بلند اخلاق کی حکایت کر رہا ہے؟
امام علی نقی(ع) نے اپنے والد بزرگوار حضرت امام محمد تقی(ع)کے زیر سایہ پرورش پائی جو فضائل و آداب کی کائنات تھے، آپ(ع) ہی نے اپنے فرزند پر اپنی روح اخلاق اور آداب کی شعاعیں ڈالیں۔
بچپن میں علم لدنی کے مالک امام(ع) کی غیرمعمولی استعداد
حضرت امام علی نقی(ع) اپنے عہد طفولیت میں بڑے ذہین اور ایسے عظیم الشان تھے جس سے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں ۔یہ آپ کی ذکاوت کا ہی اثر تھا کہ معتصم عباسی نے امام محمد تقی (ع) کو شہید کرنے کے بعد عمر بن فرج سے کہا کہ وہ امام علی نقی(ع) جن کی عمر ابھی چھ سال اور کچھ مہینے کی تھی ان کے لئے ایک معلم کا انتظام کرکے یثرب بھیج دے۔ اس کو حکم دیا کہ وہ معلم اہل بیت(ع) سے نہایت درجہ کا دشمن ہو، اس کو یہ گمان تھا کہ وہ معلم امام علی نقی(ع) کو اہل بیت(ع)سے دشمنی کرنے کی تعلیم دے گا لیکن اس کو یہ نہیں معلوم تھا کہ آئمہ طاہرین(ع) بندوں کے لئے خدا کاتحفہ ہیںجن کواس نے ہرطرح کے رجس و پلیدی سے پاک قراردیا ہے۔
جب عمر بن فرج یثرب پہنچا اس نے وہاں کے والی سے ملاقات کی اور اس کو اپنا مقصد بتایا تو اس نے اس کام کے لئے جنیدی کا تعارف کرایا چوںکہ وہ علوی سادات سے بہت زیادہ بغض و کینہ اور عداوت رکھتا تھا ۔ اس کے پاس نمائندہ بھیجا گیاجس نے معتصم کا حکم پہنچایا تو اس نے یہ بات قبول کرلی اور اس کے لئے حکومت کی طرف سے تنخواہ معین کردی گئی اور جنیدی کو اس امر کی ہدایت دےدی گئی کہ ان کے پاس شیعہ نہ آنے پائیں اور ان سے کوئی را بطہ نہ کر پائیں، وہ امام علی نقی(ع) کو تعلیم دینے کے لئے گیا لیکن امام کی ذکاوت سے وہ ہکا بکا رہ گیا۔ محمد بن جعفر نے ایک مرتبہ جنیدی سے سوال کیا : اس بچہ (یعنی امام علی نقی(ع))کا کیا حال ہے جس کو تم ادب سکھا ر ہے ہو ؟
جنیدی نے اس کا انکار کیا اور امام(ع) کے اپنے سے بزرگ و برتر ہونے کے سلسلہ میں یوں گویا ہوا: کیا تم ان کو بچہ کہہ رہے ہو !!اور ان کو سردار نہیں سمجھ ر ہے ہو، خدا تمہاری ہدایت کر ے کیا تم مدینہ میں کسی ایسے آدمی کو پہچانتے ہو جو مجھ سے زیا دہ ادب و علم رکھتا ہو ؟
اس نے جوا ب دیا :نہیں
سنو !خدا کی قسم جب میں اپنی پوری کو شش کے بعد ان کے سامنے ادب کا کوئی باب پیش کرتا ہوں تو وہ اس کے متعلق ایسے ابواب کھول دیتے ہیں جن سے میں مستفید ہوتا ہوں ۔سنو! لوگ یہ گمان کر تے ہیں کہ میں ان کو تعلیم دے رہا ہوں لیکن خدا کی قسم میں خود ان سے تعلیم حا صل کر ر ہا ہوں۔
زمانہ گذرتا رہا، ایک روز محمد بن جعفر نے جنیدی سے ملاقات کی اور اس سے کہا :اس بچہ کا کیا حا ل ہے؟
اس بات سے اس نے پھر نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور امام(ع) کی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا :کیا تم اس کو بچہ کہتے ہو اور بزر گ نہیں کہتے؟ جنیدی نے ایسا کہنے سے منع کرتے ہوئے اس سے کہا : ایسی بات نہ کہو خدا کی قسم وہ اہل زمین میں سب سے بہتراور خدا کی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں،میں نے بسا اوقات ان کے حجرے میں حاضر ہوکر ان کی خدمت میں عرض کیا!یہاں تک کہ میں ان کو ایک سورہ پڑھاتا تو وہ مجھ سے فرماتے:’’تم مجھ سے کون سے سورہ کی تلاوت کرانا چاہتے ہو؟‘‘۔ تومیں ان کے سامنے ان بڑے بڑے سوروں کاتذکرہ کرتاجن کوانھوں نے ابھی تک پڑھا بھی نہیں تھاتو آپ(ع) جلدی سے اس سورہ کی ایسی صحیح تلاوت کرتے جس کو میں نے اس سے پہلے نہیں سناتھا،آپ(ع) داؤدکے لحن سے بھی زیادہ اچھی آواز میں اس کی تلاوت فرماتے ،آپ قرآن کریم کے آغاز سے لے کر انتہا تک کے حافظ تھے ۔آپ کوسارا قرآن حفظ تھا اورآپ اس کی تاویل اور تنزیل سے بھی واقف تھے۔
جنیدی نے مزیدیوں کہا:اس بچہ نے مدینہ میں کالی دیواروں کے مابین پرورش پائی ہے اس علم کبیر کی ان کو کون تعلیم دے گا؟اے خدائے پاک و پاکیزہ و منزہ!!جنیدی نے اہل بیت(ع ) کے متعلق اپنے دل سے بغض وکینہ وحسد وعدوات کونکال کرپھینک دیا اوران کی محبت و ولایت کادم بھرنے لگا۔
اس چیزکی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں بیان کی جاسکتی کہ مذہب تشیع کاکہنا ہے کہ خدا نے آئمۂ طاہرین(ع) کو علم و حکمت سے آراستہ کیا اور ان کو وہ فضیلت و بزرگی عطا کی جو دنیا میں کسی کونہیں دی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین