جیلوں میں قتل کرنے کے بعد لاشیں بھی غائب؛آل سعود کی درندگی

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے سعودی عرب کی جیلوں میں مقتولین کی لاشیں ضبط کرنے کی آل سعود کی پالیسی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل:سعودی یورپی ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے کہا کہ جیلوں میں قتل کیے جانے والے افراد  کی لاشوں کو قبضے میں لینے پر مبنی سعودی حکام کی پالیسی  بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی اور مقتولین کے اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنانا ہے۔
 تنظیم نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسی متاثرین کے خاندانوں سے بدسلوکی اور بدلہ لینے  نیز ان کے درد کو بڑھانے کے طرز عمل کو جاری رکھنے پر سعودی عرب کے اصرار کی بھی گواہی دیتی ہے، سعودی لیکس نے لکھا ہے کہ  جنوری 2016 کے اوائل میں سعودی عرب نے 47 افراد کو اجتماعی پھانسی دی جو 36 سالوں میں سب سے بڑی پھانسی تھی۔
 تاہم، ان اجتماعی پھانسیوں کے متعدد متاثرین کے ناموں کے بارے میں معلوم کرنےسے منصفانہ ٹرائل کی کمی اور سعودی عرب میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے مختلف پہلوؤں کا انکشاف ہوا، یادرہے کہ  سعودی عرب میں اجتماعی پھانسی کی چھٹی برسی پر متاثرین کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ  مقتولین کے لواحقین میں لاشوں یا تدفین کی جگہوں کے بارے میں آگاہی کا فقدان اور حکومت کی جانب سے انہیں حوالے کرنے سے انکار  نیز مذہبی رسومات کے مطابق تدفین کی تقریبات  میں شرکت کی اجازت کا نہ ملا اہل خانہ پر مزید اذیتیں اور ان کے مصائب میں اضافہ بنا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین