بن سلمان میرا بھی جمال خاشقجی والا حشر کرنا چاہتے تھے؛سعودی انسانی حقوق کے کارکن

کینیڈا میں مقیم حقوق انسانی کے ایک کارکن سعودی شہری نے بتایا کہ سعودی حکومت نے جمال خاشقجی کی طرح انھیں بھی اوٹاوا میں واقع اپنے سفارت خانے میں لانےکی کوشش کی ۔

ولایت پورٹل:مشہور سعودی قیدی لجین الهذلول کے بھائی ولید الهذلول نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ہے کہ کینیڈا میں سعودی سفارتخانے نے جمال خاشقجی کی طرح انھیں بھی سفارتخانے کے اندر گھسیٹ کر مارنے کی کوشش کی ، الهذلول نے لکھا ہے کہ محمد بن سلمان ان کے  اہل خانہ کے تمام افراد کو سزا دینا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب میں نے اپنے پاسپورٹ میں توسیع کی درخواست دی تو مجھے بتایا گیا کہ آپ ذاتی طور پر سفارتخانہ  میں آنا ہے جبکہ یہ کام نہ جاکر بھی ہوسکتا تھا۔
ادھرولید الہذلول کی بہن عالیہ الہذلول نےبھی اپنے ٹویٹر پیج پر لکھاکہ یہ اس ملک کی سوچ اور فکر نہیں  ہوسکتی ہے جواسمارٹ سٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے ،اس طرح کی سوچ تو ایک دہاتی بھی نہیں رکھتا ہے،انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں جو بھی عہدیدار جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ شہری کو ہراساں کرکے اپنے ملک کی خدمت کر رہا ہے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے خلاف جلد ہی مقدمہ چلایا جائے گا۔
درایں اثناسعودی عرب کے انسانی حقوق کے مشہور کارکن  مضاوی الرشید نے بھی ولید الحذلول کے اس ٹویٹ کے جواب میں لکھا ہے کہ سعودی عہدہداروں نے بڑے پیمانے پر پھانسیاں دی ہیں جس سے سعودی عرب  سے بھاگ کر دوسرے ممالک میں میں پناہ حاصل کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، امریکی سیاستدان اور انسانی حقوق کے کارکن بل بروڈر نے بھی لکھا ہے کہ جب سعودی حکومت کے مخالفین سعودی سفارت خانے میں داخل ہوتے ہیں تو سب کو معلوم ہے کہ وہاں ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین