جوبائیڈن کی صدارت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی:ٹرمپ

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد شروع ہونے والا اکھاڑا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ اور نو منتخب صدر جوبائیڈن کے حامیوں کے مابین ان دنوں ٹکراؤ کی خبریں خوب موصول ہو رہی ہیں۔
گزشتہ روز ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور انکے مخالفین کے مابین ٹکراؤ ہوا جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہو گئے جبکہ پولیس نے قریب ۳۰ افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔
امریکی سڑکوں پر ہونے والی اس محاذ آرائی کا سبب ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ الزامات ہیں جو انہوں نے صدارتی انتخابات کے حوالے سے اپنے حریف جوبائیڈن پر لگائے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی کر کے انکے حریف بائیڈن جیتے ہیں اس لئے ہم انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔
ایسوشیئیٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ ٹکراؤ کے دوران ہلکے پھلکے ہتھیار بھی استعمال ہوئے ہیں اور ایک شخص چاقو لگنے کے باعث زخمی ہوا ہے، ایک پولیس افسر بھی جھڑپوں کے دوران زخمی بتایا جاتا ہے، جبکہ دسیوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
کلمبیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد حملہ کرنے، اسلحہ ساتھ لے کر چلنے اور جھگڑا کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کئے گئے ہیں،ڈونلڈ نے ایک بار پھر صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے پر اصرار کرتے ہوئے یہ دعوا کیا ہے کہ اگر جوبائیڈن کو عہدہ صدارت دے دیا جاتا ہے تو اسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی اور وہ ایک غیر قانونی صدر ہوں گے۔
ہیل جریدے کے مطابق ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہ اگر انہوں نے جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری تک شکست کو تسلیم نہیں کیا تو کیا ہوگا؟ کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ جوبائیڈن امریکہ کے ایک غیرقانونی صدر ہوں گے۔
خیال رہے کہ امریکی میڈیا ذرائع کے مطابق صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن نے تین سو چھے جبکہ ٹرمپ نے کل دوسو بتیس الیکٹورل ووٹ حاصل کئے ہیں، امریکہ میں عہدہ صدارت حاصل کرنے کے لئے دوسو ستر الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
سحر

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین