سعودی عرب کو اسلحہ نہیں دیں گے؛بائیڈن کی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش

امریکی صدر جو بائیڈن نے باضابطہ طور پر سعودی عرب کو امریکی اسلحہ کی فروخت روکنے کے اعلان کے باوجود یونانی وزیر دفاع نے امریکی پیٹریاٹ میزائل نظام ریاض پہنچانے کا اعلان کیا۔

ولایت پورٹل:امریکہ نے ہمیشہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ مغربی سماجی و سیاسی ثقافت میں امریکی اقدار کا موضوع ایک واقف تصور ہے  حالانکہ حالیہ دہائیوں میں ثقافت کے کچھ حصے جیسے لبرل ازم ، انفرادیت ، سوشلزم کی مخالفت اور دوسرے اجتماعی میدانوں میں یورپی بلاک میں شامل ہو گیاتاہم امریکہ میں جمہوری صدارتی سینیٹرز کی فہرست میں سے ایک نعرہ یہ ہے کہ وہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کا دفاع کریں گے اور در حقیقت دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں گے،اس نعرے کی قدر جو امریکی سیاستدان ہمیشہ ہی دنیا میں امریکی سیاسی - فوجی غلبے کو بڑھانے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔
امریکہ میں ڈیموکریٹک نامزد امیدوار جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد  دنیا میں امریکی اقتدار کو وسعت دینے میں ڈیموکریٹس کے روایتی مفاد کو دیکھتے ہوئے ان تصورات کو دوبارہ پیش کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس  جنہوں نے کھل کر باطنی طور پر دیکھنے کی پالیسی کا استعمال کیا اور مشہور جملہ امریکہ فرسٹ ، تاہم بائیڈن ، جیسا کہ انہوں نے میونخ سکیورٹی کانفرنس 2021 میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی امور کے بارے میں ٹرمپ سے مختلف نظریہ رکھتے ہیں اور پوری دنیا میں بین الاقوامی معاہدوں اور تعاون کی شکل میں بین الاقوامی طاقت کو وسعت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
 یقینا  بائیڈن کا مطلب ایک ہی نقطہ نظر سے ایک مختلف نظریہ ہے  یعنی ایک نئے اور سجے دھجے پیکیج میں امریکی طاقت اور عسکریت پسندی کی ترقی! دوسری طرف ، ان تصورات کا استعمال ڈیموکریٹس کی ادبیات میں ہمیشہ سر فہرست  رہا ہے  جو انسانی حقوق کے دفاع میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے نعروں کو دیکھ کر ثابت ہو جاتا ہے۔
بائیڈن کی اپنی صدارت کے پہلے دنوں (جنوری کے وسط) میں یمن جنگ کی براہ راست قیادت کی وجہ سے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت معطل کرنا تھا ، جس کے سلسلہ میں  ممبران نے ڈیموکریٹک پارٹی کے دفاع میں جمہوری نعروں کے مطابق اس کا سراہنا کیا  اورانھیں ایک امریکی انسانی حقوق  کا دفاع کرنے والے کی حیثیت سے پذیرائی ملی ،تاہم اس کے کچھ ہی دن بعد ، واشنگٹن کے یمنی انصار اللہ تحریک کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے نکالنے کے اقدام کے ساتھ ، بائیڈن کے بہت سارے حامیوں نے اس بات کا یقین کر لیا کہ کہ وہ یمن جنگ کے خاتمہ کے خواہاں ہیں  لیکن یہ صرف ایک نظریہ ہے۔
 یہاں تک کہ  کچھ امریکی ذرائع ابلاغ نے لکھا کہ بائیڈن صرف ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے ہاتھوں سے سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے کا موقع چھین کر اس کو اپنی پارٹی کے ممبروں کے حوالے کردیں اور سعودیوں کے لئے  اس کی قیمت بڑھا دیں،تاہم 25 فروری کو یونانی ذرائع ابلاغ کی خبر میں بتایا گیا کہ ایتھنز اور ریاض نے ریاستی امریکی پیٹریاٹ میزائل نظام کی فراہمی ، انسٹال اور لانچ کرنے پر اتفاق کیا ہےجس کے بعد سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے لئے بائیڈن کی ڈرامائی کاروائی جلد ہی مٹ گئی اور لوگوں کے ذہن میں بہت سے اتار چڑھاؤ پیدا ہوگئے۔
یونان کے وزیر خارجہ نیکوس ڈینڈیس نے سعودی عرب کے ساتھ اس ملک کی سرزمین پر پیٹریاٹ میزائل نظام کی فراہمی ، انسٹال اور لانچ کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا،کہا جاتا ہے کہ اس معاہدے کے تحت  جس پر جلد ہی دونوں فریقوں کے ذریعہ باضابطہ دستخط ہوں گے ، یونان اپنی فوجیں سعودی سرزمین پر تعینات کرے گا ، جو صرف پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی تنصیب میں سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کریں گی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین