بائیڈن سیکڑوں تارکین وطن بچوں کو فوجی اڈے پر بھیج چکےہیں:وائٹ ہاؤس کا فخریہ اعلان

ہفتے کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے ریپبلکن ممبروں کی تنقید پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نئی انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کا دفاع کیا۔

ولایت پورٹل:ہل نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی امیگریشن پالیسیوں نے ملک کی جنوبی سرحدوں سے پناہ گزینوں کی آمد میں اضافہ کیا ہےجس پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے اس بیان کے جواب میں کہا کہ ہم سابق صدر ٹرمپ سے امیگریشن پالیسی سے متعلق مشورہ نہیں لیتے ہیں، وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو غیر انسانی اور غیر موثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسا راستہ اختیار کریں گے جس میں [پناہ گزین بچوں کے ساتھ انسانی اور احترام آمیز سلوک بھی شامل ہو۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤ س کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جبکہ فاکس نیوز کے مطابق  بائیڈن انتظامیہ جنوبی سرحد پر پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مہاجر بچوں کی بڑی تعداد کو ورجینیا کے ایک فوجی اڈے پر بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے،ان کا کہنا ہے کہ  امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات کے ادارے نے فوجی اڈے کو بچوں کے کو رکھنے کے لئے تیار کیا ہے  اور پینٹاگون نے ایسا کرنے کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہےجبکہ بائیڈن حکومت نے پناہ گزین بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ٹیکساس میں ایک اور سنٹر بھی قائم کیا ہے  اور ریاست میں مزید دو مراکز ان بچوں کے لئے وقف کرنے کے لئے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ  رواں سال یکم مارچ سے پہلے تک روزانہ 321 نابالغوں کو امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات کو پہنچایا گیا جبکہ  جنوری کے آغاز میں یہ تعداد 41 تھی،یادرہے کہ  بائیڈن انتظامیہ ایسے وقت میں پناہ گزین بچوں کو فوجی اڈوں میں منتقل کرنے پر غور کررہی ہے ، جبکہ ٹرمپ کے دور صدارت میں بچوں کی دیکھ بھال کے سلسلہ میں ڈیموکریٹس سب سے بڑے تنقید کرنے والے تھے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین