Code : 3622 27 Hit

اپنے بچوں کو یہ کام ضرور سکھائيں

دو سال کی عمر کے بعد بچہ بڑی آسانی کے ساتھ اپنی چیزوں کو جدا جدا کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ بچے اپنے کھلونوں کو بڑے معصومانہ انداز میں ادھر سے ادھر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب بچہ تھوڑا سا بڑا ہو تو اسے اسی کی چیزوں کو مرتب انداز میں رکھنے کی مشق کروانی چاہیۓ۔ ایسے بچے جو اسکول جاتے ہیں ، ان کو اپنے کپڑوں کو تہہ کرنے اور کپڑے دھونے والی مشین میں کپڑوں کو ڈالنے اور نکالنے کی تربیت دیں۔ 8 سے 10 کی عمرکے بـچے بڑی آسانی کے ساتھ ایسے کام انجام دے لیتے ہیں۔

ولایت پورٹل: بچوں کی موجودگی میں گھر یا کسی بھی جگہ کا صاف ستھرا رہ جانا بہت ہی مشکل کام ہے۔اس کیفیت سے ہم بچوں کی تریبت کرنے میں مدد لے سکتے ہیں۔ اور کسی جگہ کی صفائی کے دوران ہم بچوں سے تعاون کرنے کے لئے کہہ سکتے ہیں تاکہ ان کو صفائی کی اہمیت کا پتہ چلے۔ ہم اس تحریر میں چند کاموں  اور باتوں کا ذکر کریں گے جن کا خیال رکھتے ہوۓ ہم بچے کو بہت ساری  اچھی عادات سکھا سکتے ہیں۔
کپڑے دھونا
دو سال کی عمر کے بعد بچہ بڑی آسانی کے ساتھ اپنی چیزوں کو جدا جدا کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ بچے اپنے کھلونوں کو  بڑے معصومانہ انداز میں ادھر سے ادھر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب بچہ تھوڑا سا بڑا ہو تو اسے اسی کی چیزوں کو مرتب انداز میں رکھنے کی مشق کروانی چاہیۓ۔ ایسے بچے جو اسکول جاتے ہیں ، ان کو اپنے کپڑوں کو تہہ کرنے اور کپڑے دھونے والی مشین میں کپڑوں کو ڈالنے اور نکالنے کی تربیت دیں۔ 8 سے 10 کی عمرکے بـچے بڑی آسانی کے ساتھ ایسے کام انجام دے لیتے ہیں۔
برتن دھونا
برتنوں کی صفائی ہماری روز مرّہ زندگی کا ایسا کام ہے کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا ہے۔ اگر بچوں کو برتن دھونے کی تربیت دی جاۓ تو گھر میں وہ اپنی ماں کا ہاتھ  بٹا سکتے ہیں۔ پانچ سے چھ سال کی عمر کا بچہ یہ سیکھ سکتا ہے کہ اسے اپنی پلیٹ کو کیسے صاف کرنا ہے اور کیسے  اس پر پانی ڈالنا ہے۔  سات سے آٹھ سال کا بچہ برتنوں کو ان کی اصل جگہ پر رکھنا سیکھ سکتا ہے اور 9 سال کی عمر میں بہت بہتر انداز میں تمام کے تمام متعلقہ کاموں کو بہت بہتر انداز میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گھر میں احتیاطی تدابیر کے نکات بھی اپنے بچوں کو بتائیں اور ان کو یہ چیز بڑی اچھی طرح سے بتائیں کہ چاقو کو استعمال کرنے اور دھونے کے بعد کس انداز میں رکھنا ہے۔
اپنے بستر کو تہہ کرنا
ہر روز صبح  نیند سے اٹھنے کے بعد اپنے بستر کو مرتب کرنا بہت ہی ذمہ داری کا کام ہے اور بہت اچھی عادت بھی۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بچہ ہر روز خود اس کام کو انجام دے۔ بچوں میں اکثر اوقات لاپرواہی کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اگر ان کو وقت پر نہ روکا جاۓ تو ان کی عادات کے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ بچے کو ابتدائی عمر سے ہی ان باتوں کی طرف راغب کریں اور انہیں سکھائیں کے نیند سے اٹھنے کے بعد ، دن  بھر کے کاموں کی طرف مصروف ہونے سے قبل کس انداز میں اپنے بستر کو مرتب کرنا ہے۔ ابتداء میں آپ خود اپنے بچوں کو ان کا بستر ٹھیک کرکے دیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ کام خود بچوں کو اپنی نگرانی میں کرنے دیں۔ بچپن میں بچے اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ وہ اپنے تکئے یا اپنے کھلونوں کو اپنی مرضی کی جگہ پر مرتب انداز میں رکھیں۔
جھاڑو لگانا
یہ کوئی سادہ کام نہیں ہے بلکہ اس کے لئے بھی ایک اچھی خاصی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔  بچہ چونکہ ناسمجھ ہوتا ہے اس لئے ممکن ہے کہ جھاڑو لگاتے ہوۓ وہ کوڑے کرکٹ کو بکھیر دے۔  اس لئے ضروری ہے کہ اس کام کے لئے بچے کو تیار کریں اور اسے  بہتر طرح سے سکھائیں۔ اگر ویکیوم کلینر جھاڑو کو استعمال کیا جا رہا ہو تب بھی اسے سکھائیں کہ کس انداز میں اور کیسے اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جانا  ہے۔  سات سے آٹھ سال کی عمر کے بچے بڑی آسانی سے اس طرح  کے کام کو انجام دے سکتے ہیں۔
بچوں کو اس بات کی بھی اجازت دیں کہ وہ ان کاموں کی انجام دہی کے دوران کھیل کود میں بھی مصروف رہیں۔ ان کاموں کو انجام دیتے ہوۓ بچوں سے مشورہ لیتے رہیں کہ کن کاموں کو کرنا چاہیۓ اور کن کو نہیں کرنا چاہیۓ۔ اضافی وسائل کو باہر پھینکتے ہوۓ بھی بچے سے پوچھیں کہ کس چیز کو استعمال میں رکھا جاۓ اور کس کو گھر سے باہر نکال دیا جاۓ۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین