بحرینی عالم دین کی منامہ تل ابیب تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت کرنے پر طلبی

بحرین کے ایک عالم دین کو اسرائیل کے ساتھ منامہ کے تعلقات معمول پر لانے کے خلاف بولنے پر طلب کیا گیا۔

ولایت پورٹل:مرآة البحرین نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحرینی عہدیداروں نے ملک کے ممتاز عالم دین منیر معتوق کو صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرنے کے جرم میں طلب کیا ہے، معتوق نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ بحرینی عوام کی مرضی  نہیں ہے،بحرینی قوم ایک ایسی قوم جو پوری تاریخ میں اپنی سرزمین پر صہیونی غاصبوں کے خلاف فلسطینی عوام کی جدوجہد کی حمایت کرتی آئی ہے۔
درایں اثنا بحرین کی فوج نے ابو صیبع کے علاقے میں دو نوجوانوں اور منامہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوعمر نوجوان کوصیہونیوں کے ساتھ آل خلیفہ حکومت کے تعلقات معمول پر لانے کے خلاف پرامن سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں حراست میں لیا،یادرہے کہ بحرین کی وزارت داخلہ نے اس ملک کے شاعر عبدالحسین احمد کو بھی گرفتار کیا ہے کیونکہ انھوں  ایک نظم کہی جس میں انہوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مذمت کی۔
ادھر  بحرین کی حکومت  صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خلاف کسی بھی طرح کی تنقید کو جرم قرار دیتی ہے لیکن اس کے باوجود بحرین میں اس معاہدہ کی مذمت میں 150 سے زیادہ مظاہرے ہوچکے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین