بحرینی خاندانی آمریت کی عدالت میں ایک بار پھر بے عدالتی کا مظاہرہ؛ایران کی جانب سے مذمت

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں بین الاقوامی امور کے مشیر حسین امیر عبد اللہیان نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں بحرین کی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کو پامال کرنے کی شدید مذمت کی۔

ولایت پورٹل:اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں بین الاقوامی امور کے مشیر حسین امیر عبد اللہیان نے کہا ہے کہ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کو اسرائیل کی جعلی حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے بجائے اپنے عوام کے ساتھ تعلقات کی اصلاح کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز بحرین کی عدالت نے حکومت مخالف 2 بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت کی تائید کر دی ہے۔
بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی نمائشی عدالت نے ہمیشہ بحرینی انقلابیوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت موت، شہریت منسوخ کر دینے یا پھر طویل المیعاد قید کی سزا سنائی ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیمیں سیاسی اور سماجی کارکنوں کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے ظالمانہ اور تشدد امیز اقدامات پر بحرینی حکام کو بارہا خبردار کر چکی ہیں۔
بحرینی عوام فروری دو ہزار گیارہ سے اپنے ملک میں جمہوریت اور آزادی کے قیام کے لئے پُر امن جد وجہد کر رہے ہیں لیکن خاندانی  آمریت آل خلیفہ آل سعود کے ساتھ مل کر  ہر طرح سے انھیں دبانے کی کوشش کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ اس ملک کے نوجوانوں  کو ایز رسانی کے لیے طرح طرح کے حربے آزما رہا ہے کبھی ان کی شہریت منسوخ کر دی جاتی ہے اور کبھی فرضی کیسوں میں پھنسا کر سزائے موت سنا دی جاتی ہے لیکن اتنی بربریت کے باوجود نوجوانوں کے حوصلہ نہ صرف یہ پست نہیں ہوتے بلکہ دن بدن بلند ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آمریت کو دفنا کر اس پر مٹی پھیر کر ہی دم لیں گے۔

سحر


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین