Code : 2364 68 Hit

لبنانی وزیراعظم کے استعفے کا پس منظر

رائ الیوم اخبار کے ایڈیٹر عبد الباری عطوان نے لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کے استعفے کے کچھ پس منظر پیش کیے ہیں۔

ولایت پورٹل:لبنان میں ہونے والے اعتراضات کے تیرہویں روز اس ملک کے وزیراعظم نے کل یہاں کے صدر میشل عون کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کردیا لیکن ان کے استعفے کے بعد بھی کل رات لبنان کے مختلف علاقوں میں مظاہرے جاری تھے یہ مظاہرے اقتصادی مسائل کو لے کر شروع ہوئے تھے لیکن اچانک  ان کا رخ بدل گیا اور سیاسی مطالبات میں تبدیل ہوگئےاسی سلسلے میں رائ الیوم اخبار کے ایڈیٹر عبد الباری عطوان نے اداریے میں عرب دنیا کے تجزیہ نگاروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ لبنان اور عرب دنیا میں سعد الحریری کےاچانک استعفے کے بارے میں نظریات مختلف ہیں کچھ لوگ اس کو ذمہ داری سے بھاگنا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے اعتراضات مزید بڑھیں گے  لیکن کچھ کا کہنا ہے کہ یہ اچھاقدم ہے جو لبنان کو خانہ جنگی سے روکنے کا کام کرے گا ،لبنان کے صدر الحریری کے استعفے دینے پر ہکابکا رہ گئے اور ان سے مزید سوچنے کی اپیل کی نیز فور استعفی قبول کرنے نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تاکہ اپنے اہم ترین اتحادیوں خاص طور پر حزب اللہ اور امل تحریک کے ساتھ تبادلہ خیال کر سکیں،عطوان  اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے ہے الحریری  کے استعفے کے بعدلبنان  آتش فشان کے دہانے پر کھڑا ہے اس لئے کچھ اندرونی اور بیرونی طاقتیں یہ نہیں چاہتی ہیں اس ملک میں امن قائم رہے ان کا مقصد خاص طور پر حزب اللہ کو ہدف قرار دینا ہے اس لیے کہ یہ تنظیم لبنان کے سیاسی اور فوجی مسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور موجودہ دور میں اسرائیل کی غاصب حکومت کے وجود  اور امریکی منصوبوں کے لیے خطے میں بہت بڑا چیلنج شمار ہوتی ہے،عطوان نے اپنے اداریے میں مزید لکھا ہے یہ معلوم نہیں کہ الحریری نے یہ استعفی اپنی مرضی سے دیا ہے یا بیرونی طاقتوں کی طرف سے ان پر دباؤ ڈالا گیا ہے خاص طور پر امریکا اور خلیجی ممالک میں اس کے اتحادیوں کی طرف سے اس لیے کہ انھوں  نے اس سے پہلے سعودی عرب کی جانب سے ان پر ڈالے جانے والے دباؤ کا مقابلہ کیا تاہم اس استعفے کے بعد بھی لبنانی مظاہرین اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے،عبد الباری عطوان نے لکھا ہے اس استعفے کے پیچھے تین مقاصد ہو سکتے ہیں، پہلا یہ کہ سعد حریری کو نئی حکومت بنانے پر مامور کیا جائے جس میں بدعنوان وزیر شامل نہ ہو خاص طور پر جو موجودہ حکومت کے قریبی رشتہ دار جو اس وقت اہم وزارتوں یا بڑے عہدوں پر موجود ہیں دوسرا ٹیکنوکریٹ حکومت کا بنایا جانا اس میں سعد الحریری کی وزارت عظمیٰ کے تحت ممتاز اور بدعنوانیوں سے پاک افراد شامل ہوں تاکہ ملک کو اقتصادی بحران سے باہر نکالا جاسکے،تیسرا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ پارلیمنٹ میں غالب سیاسی طاقتوں پر مبنی ایک حکومت بنائی جائے جن میں حزب اللہ،امل تحریک اور مزاحمتی تحریک کی اتحادی  بعض سنیاہم شخصیات شامل ہیں ،اس حکومت میں ایک ایسے سنی شخص کو وزیراعظم بنایا جائے جس کو سب مانتے ہوں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम