Code : 2283 111 Hit

تمام سامراجی طاقتوں کا مقابلہ آج ایران کے اسلامی انقلاب سے ہے: رہبر انقلاب

جن لوگوں نے ان کی مذموم اور ناپسندیدہ حرکتوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ نظام حکومت کو مشکلات سے دو چار کردیں گے تو انھیں یہ جان لینا چاہئے کہ ملت کا عزم و ارادہ اتنا قوی اور مستحکم ہے کہ ان مذموم سازشوں کو خود اپنے اندر نگل لے گا اور جو بھی ان کاموں میں مفسدین کا ساتھ دیتا ہے یا اس افراتفری میں شدت لانے کی کوشش کرتا ہے، اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ بہر حال کچھ عرصہ کیلئے ان ہنگاموں سے ملک ،عوام اور نظام کے کاموں میں رکاوٹ بہر حال ہوتی ہے۔

ولایت پورٹل: آج اسلامی حکومت استکبار کی منہ زوریوں، خواہشات اور ہوا وہوس کے مد مقابل کھڑی ہے کیونکہ اسلامی نظام کا خاصہ عدالت، آزادی اوردینی خواہشات کا اجرا ہے۔ آج ہر نوجوان کا موقف وہی ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کا ہے چاہے وہ خود ہمارے ملک کا رہنے والا ہو یا دوسرے ملک کا ۔اور جو بھی اس اسلامی انقلاب پر کہ جس نے ظلم ، فساد، سینہ زوری اور طبقاتی نظام کے خلاف عَلم بلند کیا ،ڈکٹیٹر ،آزادی کا مخالف یا حقوق بشر کے مخالف ہونے کا الزام لگاتا ہے یا تو وہ خود دشمن ہے یا پھر دشمن کے فریب میں گرفتار ہے۔ سب کو ان باتوں پر توجہ رکھنی چاہئے خصوصاً نوجوانوں کو۔
ایک اور اہم مطلب کہ جو انہی باتوں سے مربوط ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی ملک میں کوئی ایساکام انجام پاتا ہے کہ جو ملکی ترقی اور خوشحالی کا سبب بنے تو دشمن ایک نہ ایک ہنگامہ کھڑا کردیتا ہے تاکہ وہ کام پایہ تکمیل تک نہ پہنچے مثلاً ان چند دنوں میں علم اور تحقیق کی اہمیت پر بات شروع ہوئی اور کچھ سنجیدہ کام زیر غور آئے خصوصاً یونیورسٹی کے پروفیسر اور طلباء سے میری جو چند ملاقاتیں ہوئیں ان میں کھل کر تحقیق اور ان جیسے دوسرے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا اورکچھ نئی باتیں سامنے آئیں کہ جنھیں میں نے اُن سے مربوط افراد تک پہنچایا اور ان پر غور بھی شروع ہو چکا ہے اور عملی تدابیر سوچی جارہی ہیں کہ کس طرح ملک میں تعلیم کی اہمیت اور تحقیق و جستجوکی فضا کو مستحکم کیا جائے اور کن راہوں سے ذہین و باصلاحیت افراد کی تربیت کی جائے کہ اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ انہی یونیورسٹیوں میں کسی بھی موضوع کو بہانہ بنا کر ایک جنجال کھڑا کردیا جاتا ہے۔ ان ہنگاموں کے اثرات یہ ہوتے ہیں کہ وہ علم و تحقیق کے موضوعات تو ایک طرف خود روز مرہ کی پڑھائی بھی اس فساد و جنجال کا شکار ہوجاتی ہے بلکہ ان اداروں میں چھٹی تک کی نوبت آجاتی ہے۔ یہ سب کس کا کام ہے؟ آیا یہ دشمن کا کام نہیں؟! ٹھیک اس وقت کہ جب نوجوان علمی میدانوں میں تحقیق کی طرف آرہے ہوں اور اپنی فکری استعداد میں اضافہ کر رہے ہوں اور دوسری جانب ہمارا نظام بھی ان کاموں کیلئے راہ ہموار کر رہا ہو (آج پہلے سے کہیں زیادہ معاشرے میں تحقیق کی ضرورت کا احساس پروان چڑھ رہا ہے) کہ اچانک کچھ لوگ سامنے آجاتے ہیں اور اپنی بیکار اور فضول حرکتوں سے یونیورسٹی، اس کے طلباء،اساتذہ اور محققین کو ان کے کاموں سے روک دیتے ہیں یا ان کے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی ان حرکتوں سے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے !جن لوگوں نے ان کی مذموم اور ناپسندیدہ حرکتوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ نظام حکومت کو مشکلات سے دو چار کردیں گے تو انھیں یہ جان لینا چاہئے کہ ملت کا عزم و ارادہ اتنا قوی اور مستحکم ہے کہ ان مذموم سازشوں کو خود اپنے اندر نگل لے گا اور جو بھی ان کاموں میں مفسدین کا ساتھ دیتا ہے یا اس افراتفری میں شدت لانے کی کوشش کرتا ہے، اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ بہر حال کچھ عرصہ کیلئے ان ہنگاموں سے ملک ،عوام اور نظام کے کاموں میں رکاوٹ بہر حال ہوتی ہے۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम