ڈنمارک میں مسجد پر حملہ؛اسلام دشمنی کا ایک اور ثبوت

مغربی ممالک  میں اسلام دشمنی میں اضافہ ہونے کے نتیجہ میں ڈنمارک - جرمنی کی سرحد کے قریب واقع ایک مسجد پر حملہ کیا گیا ہے۔

ولایت پورٹل:اناطولی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ڈنمارک کے سرحدی قصبے اوبرن کی ایک مسجد پر نامعلوم شخص کے اسلام دشمن حملہ کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق  ڈنمارک - جرمنی کی سرحد کے قریب واقع ایک ترک مسجد پر اسلام دشمنوں نے حملہ کیا ، حملہ آور نے مسجد کی دیواروں پر اسلام کے خلاف توہین آمیز الفاظ لکھے ،ڈنمارک  کےاوبرن شہر میں واقع بورڈ آف ٹرسٹی کے چیئرمین ہرسیت توکائی نے بتایا کہ وہ جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے مسجد سے نکلے اور ہفتے کو (کل) صبح گیارہ بجے واپس آئے اس درمیان کہ مسجد پر حملہ کیا جا چکا تھا نیز وہاں انھوں نےپیغمبر اکرمؐ کے خلاف توہین آمیز تحریریں بھی برآمد کیں۔
یادرہے کہ   اوبرن  کی یہ مسجد ، جو ڈینش ترکی اسلامک فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ہے ، کورونا وائرس پھیل جانے کی وجہ سے بند ہوگئی تھی اور نمازی وہاں موجود نہیں تھے، توکئی نے اطلاع دی کہ اوبرن  کی مسجد پر حملے کی اطلاع ڈنمارک پولیس کو دی گئی تھی اور حکام نے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
یادرہے کہ اوبرن کی  مسجد پر اسلام دشمن حملہ فرانس کے اسلام مخالف مؤقف کی حمایت میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کےبعد ہواہے،قابل ذکر ہے کہ ڈنمارک نے فرانس میں پیغمبر اکرم ؐ کی شان میں گستاخی کیے جانے بعد اس ملک  کے حکام نے اسلام دشمنی پر مبنی اس اقدام کی حمایت کی تھی تو  ڈنمارک نے فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جس سے مغربی ممالک میں اسلام دشمنی اور مذہبی انتہا پسندی کے ثبوت ملتے ہیں جبکہ یہ ممالک مساجد اور مسلمانوں کے خلاف حملہ کرنے والوں کو کبھی بھی دہشت گردوں کے نام سے یاد نہیں کرتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین