عراق میں امریکی فوجی قافلے پر حملہ

عراقی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وسطی عراق میں امریکی فوج کے لئے رسد کا سامان لے جانے والے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔

ولایت پورٹل:عراقی ذرائع نے آج منگل کو اطلاع دی ہے کہ وسطی عراقی صوبہ بابل میں امریکی فوجی رسد کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ الاعلام المقاوم چینل نے اطلاع دی ہے کہ اس قافلے کو جنوبی صوبہ بغداد کے شہر الحلہ میں نشانہ بنایا گیا ہے، المیادین نیوز ویب سائٹ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ قافلہ امریکی اتحاد سے وابستہ تھا جس کے راستے ہیں ایک بم دھماکہ ہوا ہے ،تاہم ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
یادرہے کہ  حالیہ مہینوں میں  عراق کے مختلف فوجی اڈوں پر تعینات امریکی فوجیوں کے لئے رسد کا سامان لے جانے والے قافلوں کو ہفتے میں کئی بار سڑک کے کنارے نصب بموں کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ بعض اوقات یہ حملہ روزانہ کی بنیاد پر کیے گئے ہیں،واضح رہے کہ  عام طور سے امریکی قافلے مغربی شام کی سرحد یا عراق میں کے جنوب میں کویت کی سرحد سے اس ملک میں داخل ہوتے ہیں، عراقی مزاحمتی گروپوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی حکومت کو امریکی فوجیوں کو ملک بدر کرنے کے لیے دی گئی آخری تاریخ گذرچکی ہے۔
یادرہے کہ عراقی  مزاحمتی تحریک کے خلاف امریکی اتحاد کے دہشت گرد انہ حملوں  اور ان کے ہاتھوں عراقی الحشد الشعبی فورس کے متعد اہلکاروں کی شہادت نیز سپاہ پاسداران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل حاج قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی شہادت کے بعد ، عراقی پارلیمنٹ نے اسی مہینے کی 15 تاریخ کو عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے منصوبے کی منظوری دی اور بغداد حکومت سے اس پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیاجبکہ بہت سارے عراقی گروہ ملک میں موجود امریکی افواج کو قابض سمجھتے ہیں اور ان علاقوں سے ان فورسز کے فوری انخلا پر زور دیتے ہیں لیکن اس منصوبے کو پاس ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے پر امریکہ یہاں سے نکلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین