Code : 1230 31 Hit

ایران اور ہندوستان کے تعلقات میں توسیع؛ہندوستانی مؤمنین کی جانب سے ایرانی سیلاب متأثرین کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپئے کی امداد:ہندوستان میں تعینات نمائندہ ولی فقہ

نمائندہ ولی فقہ کا کہنا ہے کہ رہبر معظم نے ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں توسیع نیز دونوں ممالک کی عوام اور حکومتوں کے درمیان دوستی کی تاکید فرمائی ہے۔

ولایت پورٹل:نئی دلی میں تعینات ولی فقیہ کے نمائندہ حجت الاسلام والمسلمین مہدی مہدوی پور نے ایران اور ہندوستان کے بہترین تعلقات  اور ایران میں سیلاب کے بحران میں ہندوستانی عوام و حکومت کی  ہمدردی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم نے ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں توسیع نیز دونوں ممالک کی عوام اور حکومتوں کے درمیان دوستی پر زور دیا ہے، حجت الاسلام والمسلمین مہدوی پور نے آج قم میں فارس نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان شیعوں نے ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کیا ہے کہ جس کی ایک  مثال حالیہ دنوں میں ایران میں آنے والے سیلاب میں ان کی جانب سے  بغیر کسی اپیل کے رضاکارانہ طور پر کی جانے والی امداد ہے،انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں من جملہ جموں کشمیر اور گجرات سے مؤمنین نئی دلی میں ہمارے دفتر میں سیلاب متأثرین کے ساتھ  ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر15ملین روپئے کی  امداد کی  جس کے لیے ہم ان کے شکر گذار ہیں،نمائندہ ولی فقیہ نے مزید کہا کہ  بعض علاقوں میں مؤمنین کی غربت کو دیکھتے ہوئے ہم نے کہا کہ ان علاقوں  امداد نہ لی جائے لیکن جواب ملا کہ یہ غریب مؤمنین بھی سیلاب متأثرین کی امداد کرنا چاہتے ہیں  جو اسلامی جمہوریہ ایران اور رہبر معظم سے ان کی محبت کی علامت ہے اور نہایت ہی قابل قدر ہے،آقائے مہدوی پور نے کہا کہ ہندوستان حکومت نے  قابل ذکر امداد کی ہے جس کے لیے ہم ان کے بھی  مشکور ہیں،ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے لیے ہوسکتا ہے کہ یہ امداد معمولی ہو لیکن  بعض غریب مؤمنین نے ایک،دو ہزار روپئے کی مدد بھی کی ہے جو نہایت ہی قابل قدر ہےاور ایران  ہندوستانی مؤمنین کی اس محبت کو ہرگز فراموش نہیں کرے گا،نمائندہ ولی فقیہ کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان ثقافتی تعلقات  اور اسٹراٹیجک تعلقات ہیں جو آج کے نہیں ہیں بلکہ صدیوں پرانے ہیں جن کی بنا پر ہندوستانی عوام ہر میدان میں ایرانیوں کے شانہ بشانہ رہی ہے،خاص طور پر اسلامی انقلاب کے بعد سے لےآج تک مغربی طاقتوں کی پابندیوں کے باجود دنوں ممالک کے  روابط محفوظ رہے ہیں اور آج بھی دونوں میں سیاسی ،ثقافتی، اور اقتصادی روابط بہترین انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں،جن میں انشا اللہ مزید بہتری اور توسیع ہوگی،تین سال قبل جب ہندستانی وزیر اعظم ایران کے دورے پر آئے اور انھوں نے رہبر معظم کے ساتھ ملاقات کی تو آپ نے ہندوستان اور ایران کے تعلقات میں توسیع کی تاکید فرمائی،حجت الاسلام والمسلمین مہدوی پور نے  دونوں ممالک کے درمیان رفت وآمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ ڈیڑھ لاکھ ہندوستانی مؤمنین امام رضا علیہ السلام کی  زیارت کرنے  ایران آتے ہیں  جن میں کئی اہلنست علماء بھی ہوتے ہیں جو اتحاد کی اہم علامت ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम