Code : 1324 42 Hit

تو آزاد ہے یا غلام؟؟؟

اگر غلام ہوتا تو وہ یقیناً اپنے آقا کی خواہش کا احترام کرتا۔ تیر کی طرح یہ بات اس کے دل پر جالگی اور وہ بے تحاشہ ننگے پیر اس آدمی کی طرف دوڑنے لگا جس نے یہ بات کہی تھی ۔بدحواسی کے عالم میں وہ تیز رفتاری کے ساتھ دوڑتا ہوا اس شخص کے قریب پہونچ گیا۔وہ کوئی اور نہیں تھا بلکہ ساتویں امام حضرت موسٰی ابن جعفر علیہ السلام تھے اس شخص نے امام کے سامنے توبہ کی چونکہ توبہ کرتے وقت وہ ننگے پیر تھا لہذا اس نے پیر میں پاپوش نہیں پہنا اور تمام عمر ننگے پیر چلتے رہا ۔توبہ سے قبل وہ شخص بشیر بن حارث بن عبدالرحمٰن مروزی کے نام سے مشہور تھا لیکن اسکے بعد ساری زندگی ’’الحافی‘‘ یعنی ننگے پیر والا کے لقب سے یاد کیا جاتا رہا۔

ولایت پورٹل: ایک گھر سے ناچ گانے کی آواز آرہی تھی، گھر کے قریب سے گذرنے والے شخص کو یہ محسوس کرنے میں دیر نہیں لگتی تھی کہ اندرون خانہ کیا ہورہا ہے ؟ شراب و کباب اور عیش و عشرت کی محفل گرم تھی جام سے جام ٹکرائے جارہے تھے اس گھر کی کنیز کوڑا وغیرہ لئے باہر نکلی تھی تاکہ اسے ایک کنارے پھینک دے۔ اسی اثنا میں ایک شخص جس کے چہرے سے عبادت گذاری کے آثار نمایاں تھے اور جس کی پیشانی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ یقیناً یہ کوئی عابد شب زندہ دار ہے، اس گھر کے قریب سے گذرر رہا تھا کنیز کو گھر سے باہر آتا ہوا دیکھ وہ شخص اپنی جگہ پر ٹہر گیا اور جب کنیز اس کے قریب آگئی تو اس سے پوچھا:’’اس گھر کا مالک آزاد ہے یا غلام‘‘؟
آزاد۔ کنیز نے جواب دیا۔
تم نے ٹھیک کہا آزاد ہی ہوگا اگر غلام ہوتا تو یقیناً اپنے آقا و مالک حقیقی یعنی پروردگار عالم کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے اس قسم کی محفل آرائی سے پرہیز کرتا‘‘۔
کنیز اور اس مرد متقی کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کے سبب اسے گھر لوٹنے میں کچھ دیر لگی جیسے ہی کنیز گھر کے اندر داخل ہوئی مالک نے پوچھا :آخر تونے اتنی دیر کہاں لگائی؟
کنیز نے پورا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: ایک شخص جو شکل و صورت سے بڑا متقی و پرہیزگار معلوم ہورہا تھا ،تمہارے گھر کے سامنے سے گذرا اور اس نے مجھ سے یہ سوال کیا اور میں نے اس کا یہ یہ جواب دیا ۔پھر وہ یہ باتیں کہہ کر چلا گیا اور میں گھر واپس آگئی۔
کنیز کی بات سن کر وہ شخص انتہائی خوفزدہ ہوا اور اس مرد متقی کی بات اور خصوصاً اس کے جملے پر غور کرنے لگا۔‘‘اگر غلام ہوتا تو وہ یقیناً اپنے آقا کی خواہش کا احترام کرتا۔ تیر کی طرح یہ بات اس کے دل پر جالگی اور وہ بے تحاشہ ننگے پیر اس آدمی کی طرف دوڑنے لگا جس نے یہ بات کہی تھی ۔بدحواسی کے عالم میں وہ تیز رفتاری کے ساتھ دوڑتا ہوا اس شخص کے قریب پہونچ گیا۔وہ کوئی اور نہیں تھا بلکہ ساتویں امام حضرت موسٰی ابن جعفر علیہ السلام تھے اس شخص نے امام کے سامنے توبہ کی چونکہ توبہ کرتے وقت وہ ننگے پیر تھا لہذا اس نے پیر میں پاپوش نہیں پہنا اور تمام عمر ننگے پیر چلتے رہا ۔توبہ سے قبل وہ شخص بشیر بن حارث بن عبدالرحمٰن مروزی کے نام سے مشہور تھا لیکن اسکے بعد ساری زندگی ’’الحافی‘‘ یعنی ننگے پیر والا کے لقب سے یاد کیا جاتا رہا اور بعد میں بشر حافی کے نام سے صوفیہ میں ممتاز ہوا ۔ جب تک زندہ رہا اپنے عہد و پیمان پر پوری طرح ثابت قدم رہا اور نہایت وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے پھر گناہ کے قریب نہیں گیا۔ اس سے قبل وہ علاقہ کے ثروتمند اشخاص اور اشراف زادوں میں شمار کیا جاتا تھا لیکن بعد کی زندگی میں وہ خدا پرست متقی اور پرہیز گاروں کا سرخیل بن گیا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम